رسائی کے لنکس

یورپ: شدید سردی کی لہر، درجنوں ہلاکتیں، طیاروں کی پروازیں اور ریل گاڑیوں کی آمدورفت معطل


.

.


سردی اور برف باری کی لہر نے ان دنوں یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور طیاروں کی پروازوں، ریل گاڑیوں کے شیڈول اور ٹرانسپورٹ کی آمد روفت میں خلل پڑا ہے ۔

کئی عشروں میں آنے والے شدید ترین موسم سرما کے باعث اتوار کے روز برطانوی شہری سردی کی شدت سے کپکپاتے رہے۔چینل فور اور دوسرے برطانوی میڈیا نے سردی سے منسلک ہلاکتوں سمیت کئی بری خبریں نشر کیں۔

ایک ہفتے کی برف باری اور برف جمنے کے واقعات سے ڈبلن کے ہوائی اڈے کی سرگرمیاں عارضی طورپر متاثر ہوئیں اور کئی طیاروں کی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔علاوہ ازیں لندن اور دوسرے علاقوں میں ریل سروس اورکھیلوں کے پروگراموں میں بھی خلل پڑا۔

فرانس میں بھی صورت حال کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ جہاں موسمیات کے ماہرین نے پیر کو مزید سرد درجہ حرارت اور منگل کے روز ملک کے کئی علاقوں میں برف باری کی پیش گوئی کی ہے۔

برف باری کے باعث ملک بھر میں طیارے پرواز نہیں کرسکے۔ وسط مشرقی فرانس میں تقریباً ایک ہزار مسافروں کو لیون ایئر پورٹ اور نزدیکی ہوٹلوں میں رات بسر کرنا پڑی۔

ایک اور خبر کے مطابق اتوار کے روز لندن ، برسلزا ور پیرس کو ملانے والی یوروسٹار ریل سروس کو شدید موسم کے باعث گاڑیوں کی تاخیر اور منسوخی کا سامنا کرناپڑا۔

جرمنی میں 160 سے افراد رات بھر کے دوران ایک برف سے ڈھکی ایک شاہراہ پر اپنی گاڑیوں میں پھنس کررہ گئے۔انہوں نے مدد کے لیے پولیس کے پہنچنے تک اپنی گاڑیوں کو گرم رکھنے کے لیے انجن چلائے رکھے۔خراب موسمی حالات کے باعث گذشتہ ہفتے پولینڈ میں کم ازکم نو افراد ہلاک ہوگئے۔

کرویشیا اور بوزنیا میں شدید بارشوں اور برف کے پگھلنے سے سیلاب آگئے ہیں۔

یورپی باشندے سردی سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کررہے ہیں۔ جرمنی کی حکومت نے اپنے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں خوراک اور ادویات کا ذخیرہ موجود رکھیں۔ برطانیہ عام شہریوں کو قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے صنعتی شعبے میں گیس کے استعمال کو کم کررہا ہے۔

لیکن کئی دوسرے ملکوں میں لوگ موسم سرما کا لطف اٹھارہے ہیں۔ نیدرلینڈ میں ہزاروں لوگ منجمد جھیلوں میں اسکیٹنگ کے لیے نکل آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG