رسائی کے لنکس

پناہ گزینوں کے بحران سے دوچار یورپی ممالک کا تعاون پر اتفاق


یونان پہنچنے والی پناہ گزین عورتیں بچے سڑک پر کھڑے ہیں۔ (فائل فوٹو)

یونان پہنچنے والی پناہ گزین عورتیں بچے سڑک پر کھڑے ہیں۔ (فائل فوٹو)

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں شورش زدہ علاقوں سے بھاگ کر یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کے باعث ان کے راستے میں پڑنے والے ممالک یونان، مقدونیہ، سربیا، کروئیشیا اور سلووینیا کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

جنوب مشرقی اور وسطی یورپ کے رہنماؤں نے دہشت گردی اور پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کو کروئیشیا کے دارالحکومت زغرب میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اس مسئلے پر بات چیت کی گئی جس میں امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن اور یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک بھی شریک تھے۔

کانفرنس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ پناہ گزینوں کے بحران سے ایک ایسا انسانی اور سکیورٹی چیلنج پیدا ہوا ’’جس کی پہلے مثال نہیں ملتی‘‘ اور جس سے نمٹنے کے لیے ’’بات چیت اور یورپی یونین کی سرحدوں کی بہتر حفاظت پر اتفاق کی ضرورت ہے۔‘‘

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں شورش زدہ علاقوں سے بھاگ کر یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کے باعث ان کے راستے میں پڑنے والے ممالک یونان، مقدونیہ، سربیا، کروئیشیا اور سلووینیا کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ پناہ گزین ان ممالک کے لیے ایک بڑے سیاسی اور سکیورٹی چیلنج کا باعث بھی ہیں۔

بائڈن نے کہا کہ ’’پناہ گزینوں کا بحران علاقے کے ممالک کے وسائل پر دباؤ کا باعث ہے۔ یہ واضح ہے کہ انہیں بین السرحدی تعاون بہتر بنانے، پناہ گزینوں کی آمد کے متعلق معلومات کے تبادلے اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی استعداد بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

بائڈن نے ایسے وقت اس کانفرنس میں شرکت کی جب واشنگٹن میں شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے یا نہ کرنے سے متعلق بحث پیرس میں داعش کے حملوں کے بعد شدت اختیار کر گئی ہے۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

13 نومبر کو ہونے والے حملوں میں ملوث کم از کم دو شدت پسند اپنے آپ کو پناہ گزین ظاہر کر کے یونان سے گزر کر آئے تھے۔

بدھ کو ہونے والی کانفرنس میں بلقان ریاستوں البانیہ، مقدونیہ، مونٹینیگرو اور سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت پر بھی بات کی گئی۔

بائڈن نے کہا کہ پورے خطے کی یورپی یونین میں شمولیت اہم ہے۔ ’’یہ اس بات کی ضمانت دے گی کہ یورپ مجموعی طور پر آزاد اور پر امن ہو گا۔‘‘

اس کانفرنس میں البانیہ، بوسنیا اور ہرزیگووینا، کوسووو، مقدونیہ اور سربیا کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

XS
SM
MD
LG