رسائی کے لنکس

یورپ میں تارکین وطن کا بحران شدید، مزید 11 ڈوب کر ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاکھوں شامی ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث ترکی کے ساحل سے کشتوں میں سوار ہو کر یونان پہنچ رہے ہیں۔

ترکی کی ’ڈوگن نیوز ایجنسی‘ نے بدھ کو کہا ہے ترکی سے یونان کے جزیرے کوس کے لیے روانہ ہونے والی دو کشتیاں ڈوبنے کے باعث کم از کم 11 تارکین وطن ہلاک ہو گئے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تعلق شام سے تھا۔

نیوز ایجنسی نے کہا کہ 16 شامی تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی ڈوبنے سے سات افراد ہلاک ہو گئے، چار کو بچا لیا گیا جبکہ پانچ لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

اسی راستے سے روانہ ہونے والی ایک اور کشتی پر چھ افراد سوار تھے۔ ان میں سے تین بچے اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے جبکہ دو افراد لائف جیکٹ پہنے ہونے کی وجہ سے تیر کر ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

لاکھوں شامی ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث ترکی کے ساحل سے کشتوں میں سوار ہو کر یونان پہنچ رہے ہیں۔

مشرقی یونان کے ایک جزیرے سے 1,800 تارکین وطن کو ایک جہاز کے ذریعے منگل کی رات یونان کی سرزمین پر لایا گیا۔

ترکی سے ربڑ کی کشیوں پر بیٹھ کر یونان کے جزیروں پر پہنچنے والےتارکین وطن کی تعداد میں اس موسم گرما میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ تقریباً دوہزار افراد روزانہ سمندر عبور کرکے یونان کے مختلف جزائر پر پہنچے۔

گزشتہ ہفتے کچھ دن کے تعطل کے بعد یونانی حکام نے کوس، لیسبوس، ساموس، سائمی اور اگاتھونیسی جزائر سے تارکین وطن کو یونان کی سرزمین پر دوبارہ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ تارکین وطن میں سے بیشتر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد آگے یورپ کا سفر جاری رکھتے ہیں۔

ایک ستائیس سالہ شامی استاد ایشام نے کہا کہ ’’آپ کو ہماری مدد کرنی پڑے گی۔‘‘ وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کو ترکی میں چھوڑ آئے ہیں۔

انہوں نے حکومتوں سے مہاجروں کا یورپ میں داخلہ بند نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم انسان ہیں۔‘‘

معاشی بحران کے شکار یونان نے کہا ہے کہ ان لوگوں کی آمد سے نمٹنے کے لیے اس کا ڈھانچہ ناکافی ہے اور اس نے اس مسئلے سے یورپی سطح پر نمٹنے کی اپیل کی ہے۔

ادھر ہزاروں افراد لیبیا سے کشتیوں کے ذریعے اٹلی پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر تارکین وطن افریقی ہیں جو اٹلی سے دیگر یورپی ممالک میں سفر جاری رکھتے ہیں۔ فرانس میں بھی سینکڑوں تارکین وطن کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جو کئی مرتبہ فرانس سے برطانیہ کو جوڑنے والی زیر سمندر سرنگ یوروٹنل کو عبور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔

منگل کو دیر گئے اس سرنگ میں سفر کرنے والی ریل گاڑیوں کو کئی گھنٹوں تک روکنا پڑا کیونکہ شبہ تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن ریل گاڑی کی پٹڑیوں کے راستے میں موجود ہیں۔

ان ریل گاڑیوں کو یوروٹنل کے باہر اس وقت انتظار کرنا پڑا جب حکام نے انتباہ جاری کیا کہ کچھ تارکین وطن ریل گاڑیوں کی چھت پر لیٹ کر فرانس سے برطانیہ جانے کی کوشش میں سرنگ میں موجود ہیں۔

جولائی میں ایک واقعے میں 2000 افراد نے ایک ساتھ اس سرنگ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جس کے بعد حکام نے وہاں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ اس کے بعد روزانہ سرنگ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد 200 سے کم ہو کر 100 رہ گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG