رسائی کے لنکس

یورپی ملکوں میں تارکینِ وطن کی آبادکاری پر اختلافات برقرار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یورپ کی طرف سے تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے میں ناکامی خاص طور پر یونان اور اٹلی کے لیے مشکل کا باعث بن رہی ہے۔ اس سال جنوری سے جون کے دوران یورپ پہنچنے والے 137,000 تارکین وطن میں سے زیادہ تر ان دو ملکوں کے ساحلوں پر اترے۔

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ پیر کو سیاسی پناہ کی تلاش میں افریقہ، ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے ان 40,000 افراد کے لیے عارضی گھروں کا انتظام کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں جو یونان اور اٹلی میں کیمپوں میں مقیم ہیں۔

یہ تارکین وطن بحیرہ روم کا خطرناک سفر کر کے یورپ پہنچے ہیں۔

پیر کو برسلز میں ہونے والے اجلاس میں وزرا آئندہ دو سال کے دوران مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کی متوقع آمد سے پہلے ان کی منتقلی کے ایک منصوبے کو یکم اگست سے پہلے مکمل کرنا چاہ رہے تھے۔ اب اس حوالے سے معاہدے پر اتفاق کرنے کے لیے اس سال کے آخر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

جرمنی نے اب تک 10,000 تارکین وطن کو اپنے ہاں ٹھہرانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم برطانیہ اور ڈنمارک سمیت یورپی یونین کے دوسرے ممالک اندرونی مخالفت کی وجہ سے سیاسی پناہ کے متلاشی مزید لوگوں کو اپنے ہاں ٹھہرا نے پر تیار نہیں ہیں۔

آسٹریا اور ہنگری نے بھی مزید تارکین وطن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ہنگری ان کی اپنے ہاں آمد کو روکنے کے لیے سربیا کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ نصب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یورپ کی طرف سے تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے میں ناکامی خاص طور پر یونان اور اٹلی کے لیے مشکل کا باعث بن رہی ہے۔ اس سال جنوری سے جون کے دوران یورپ پہنچنے والے 137,000 تارکین وطن میں سے زیادہ تر ان دو ملکوں کے ساحلوں پر اترے۔

اس ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے اعدا و شمار کے مطابق ان مہاجرین میں سے ایک تہائی وہ ہیں جو شام، ایریٹریا اور افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں سے آئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق 2015ء کے پہلے چار ماہ کے دوران سمندر میں ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں ایک ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جبکہ صرف اپریل میں لیبیا سے اٹلی جانے والی ایک کشتی جس پر 800 سے زائد افراد سوار تھے ڈوب گئی تھی۔ اس حادثے میں 50 سے بھی کم افراد کو بچایا جا سکا۔

اس سال اپریل میں اٹلی نے کہا تھا کہ 2014ء میں اس کے ساحلوں پر پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد تقریباً 150,000 تھی، جبکہ اس سال کے باقی عرصے میں ہر ہفتے 5,000 تارکین وطن کی آمد متوقع ہے جس کی وجہ سے 2015ء میں ملک میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد 200،000 تک پہنچ جائے گی۔

XS
SM
MD
LG