رسائی کے لنکس

افغانستان: فاضل دفاعی سامان اور اہل ممالک


فائل

فائل

’اضافی دفاعی سامان کے وصول کنندہ کے تعین کے لیے محکمہٴخارجہ محکمہ دفاع کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ حتمی فیصلے کا اختیار محکمہٴخارجہ کے پاس ہی ہوتا ہے‘: ترجمان

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کاکہنا ہے کہ فاضل قرار دیا جانے والا فوجی سازو سامان جو عالمی اضافی دفاعی سازو سامان (اِی ڈی اے) کے پرگرام کے تحت دستیاب ہوا کرتا ہے، اس کے لیے تمام اہل ممالک درخواست دے سکتے ہیں، جن میں افغانستان اور پاکستان شامل ہے۔

پیر کے روز محکمہ خارجہ کی بریفنگ کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں، ترجمان نے بتایا کہ کئی ممالک، جن میں پاکستان شامل ہے، ’اِی ڈی اے ‘پروگرام کے لیے رواجی طور پر درخواست دیا کرتا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ امریکہ اس وقت ’اِی ڈی اے‘ کے لیے پاکستان کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے، جو سازو سامان عالمی سطح پر’اِی ڈی اے پول‘ میں دستیاب ہے۔ تاہم، بقول ترجمان، پاکستان کی طرف سے دی گئی درخواست کی تفصیل جاننے کےحکومت پاکستان سے براہِ راست رابطہ کیا جانا ضروری ہے۔

ترجمان نے یہ بات واضح کی کہ امریکہ نے ’اِی ڈی اے‘ کےتحت ’ورلڈ وائیڈ پول‘ میں سے فاضل سازو سامان کے حصول کے لیے پاکستان کی درخواست رد نہیں کی، جِن میں وہ گاڑیاں شامل ہیں جو بارودی سرنگ، دھماکہ خیز ہتھیار اور گھات لگا کر حملے کی صورت میں تباہی سے محفوظ رہتی ہیں، جنھیں ’ایم آر اے پی‘ کہا جاتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ ساجھےداری کی استعداد بڑھانے کے ضمن میں سکیورٹی تعاون کے متعدد پروگراموں کے ذریعےپاکستان کی اعانت جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں عالمی سطح پر دستیاب ’اِی ڈی اے‘ کے وسائل شامل ہیں۔

بقول ترجمان، دھیان میں رہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا، نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے کہ افغانستان سے ’اِی ڈی اے‘ اُس کے کسی ہمسایہ ملک کو منتقل کریں، جِن میں پاکستان شامل ہے۔

’اِی ڈی اے‘ دنیا بھر کے متعدد مقامات میں سے کہیں سے بھی پہنچ سکتا ہے، جہاں ٕمحکمہ دفاع کے عمل درآمد پر مامور ادارے نے اضافی سامان کی دستیابی کا اعلان کیا ہو۔ اس قسم کا زیادہ تر سامان اس وقت برصغیر امریکہ کے مال خانوں میں موجود ہے۔ اِی ڈی اے کا تمام سامان، ’جیسا ہے جہاں ہے‘ کے اصول پر فراہم ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سامان وصول کنندہ ملک نقل و حمل یا اِی ڈی اے کو آراستہ کرنے اور اُس کی منتقلی کا خود ذمہ دار ہوا کرتا ہے۔

ترجمان کے بقول، افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے سلسلے میں، سازو سامان کے واپسی کے مجموعی عمل کے ایک حصے کے طور پر، امریکی فوجی سامان پاکستانی سڑک کے راستے روانہ ہو سکتا ہے یا ’ناردرن ڈسٹری بیوشن نیٹورک‘ کے ذریعے بھیجا جائے گا۔ ہم نے ایسا نہیں کیا، اور ہمارا کوئی ایسا ارادہ نہیں کہ ہم یہ سازو سامان افغانستان کی ہمسایہ حکومتوں کو منتقل کریں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق عالمی سطح کے ’اِی ڈی اے‘ کی منتقلی کا تعین کرتے وقت اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے اور ممکنہ وصول کنندہ ممالک کی ضروریات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے، باہمی قومی سلامتی کی ضروریات کو ذہن میں رکھا جاتا ہے، سامان وصول کنندہ ممالک کی طرف سے اِن کو سنبھالنے کی صلاحیتوں اور دیگر باتوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

اضافی دفاعی سامان کے وصول کنندہ کے تعین کے لیے محکمہٴخارجہ محکمہ دفاع کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ حتمی فیصلے کا اختیار محکمہٴخارجہ کے پاس ہوتا ہے۔ ’اِی ڈی اے‘ سے متعلق ہر درخواستوں کا محکمہٴ خارجہ بغور جائزہ لیتا ہے۔
XS
SM
MD
LG