رسائی کے لنکس

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ' فائرنگ کا تبادلہ'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو مذاکرات کی پیش کشں کے باوجود کسی مثبت پیش رفت کا امکان نہیں ہو گا۔

پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر اتوار کی صبح فائرنگ کے تبادلہ ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے بھمبر کے کھوئی رتہ کے علاقے میں صبح ساڑھے چار بجے "بلااشتعال فائرنگ" کی جو ڈھائی گھنٹوں تک جاری رہی۔

بیان کے مطابق اس میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دوسری طرف بھارت کی وزارت دفاع کی طرف سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ راجوڑی کے علاقے میں لائن آف کنٹرول کے پار سے پاکستانی فوجیوں نے "بلا اشتعال" فائرنگ کی جس کا کہ بھارتی فورسز نے جواب دیا۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر 2003ء میں فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اکثر و بیشتر یہاں فائرنگ کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ دونوں ملک فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان فائرنگ کا یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت پیس آیا جب حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے مابین کشمیر میں جاری مظاہروں اور عسکریت پسندی کے واقعات کی وجہ سے تعلقات نہایت کشیدہ ہیں۔

یہ مظاہرے رواں سال جولائی کے اوائل میں بھارت کے زیر انتظام کمشیر میں ایک کشمیری علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی بھارتی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔

اب تک ہونے والے مظاہروں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا آرہا ہے کہ وہ بھارتی کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے جبکہ بھارت کی طرف سے دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بیان بازی بھی جاری ہے۔

ایک روز قبل ہی پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر بھارت کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہو تو ان کا ملک مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اس پر بھارت کی طرف سے کوئی ردعمل تو سامنے نہیں آیا لیکن اتوار کو ایک بار پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے

پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ بھارت کے ہمسائے کا ایک ملک ہے جو دہشت گردی کی معاونت کرتا ہے۔ پاکستان بھارت کے ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ بھارت بھی پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ تاہم نئی دہلی ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو مذاکرات کی پیش کشں کے باوجود کسی مثبت پیش رفت کا امکان نہیں ہو گا۔

جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ جوہری ملکوں کے درمیان بڑہتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکہ سمیت کئی ممالک کی طرف سے پاکستان اور بھارت پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ دونوں ملک تناؤ میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

XS
SM
MD
LG