رسائی کے لنکس

ایک ’ٹریڈ ایکسپرٹ‘ کے بقول، اِس طرح سے، ایک ساتھ فلموں کا ریلیز ہونا مثبت بات نہیں۔ فلم چلے گی یا نہیں؟ پیسے کما کردے گی یا نہیں؟ اس بات کو بھول کر اس سوال کا کیا جواب ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فلموں کی ریلیز کے لئے سینما کہاں سے آئیں گے؟

بھارت میں عام طور پر دیوالی، ہولی، عید اور دیگر تہواروں پر باکس آفس پر بہت سی چھوٹی بڑی فلمیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن، عام دنوں میں ایسا کم ہی ہوتا ہے۔

ستمبر میں، بالی وڈ کی ایک دو نہیں بلکہ سات فلمیں ایک دوسرے سے مسابقت کے لئے تیار ہیں۔

’ٹائمز آف انڈیا‘ کا کہنا ہے کہ ادتیہ رائے کپور اور پرینیتی چوپڑہ کی ’دعوت عشق‘، تھری اے ایم، سونم کپور اور فواد خان کی ’خوبصورت‘، انوراگ کشیپ کی ’اگلی‘ ریچا چڈھا کی ’طمانچے‘، نیہا دھوپیا اور انوپم کھیر کی ’اکیس توپوں کی سلامی‘، شان اور میکا کی ’بلویندر سنگھ فیمس ہوگیا‘ اور ماضی کے ایکٹر کمل سادھنا کی ڈائریکٹ کردہ ’روور‘ ستمبر کی 19تاریخ کو سینما گھروں کی زینت بنیں گی۔

ٹریڈ ایکسپرٹ ترون آدرش کے خیال میں۔۔ ’اس طرح سے ایک ساتھ فلموں کا ریلیز ہونا مثبت بات نہیں۔‘ ترون کا کہنا تھا کہ، ’فلم چلے گی یا نہیں،پیسے کما کردے گی یا نہیں؟ اس بات کو بھول کر اس سوال کا کیا جواب ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فلموں کی ریلیز کے لئے سینما کہاں سے آئیں گے؟‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’پتہ نہیں فلم میکرز اور ڈسٹری بیوٹرز نے یہ نیا سلسلہ کیوں شروع کیا ہے۔۔یش راج اور ڈزنی جیسے اداروں کی پوزیشن اسٹرونگ ہے اس لئے انہیں شاید مشکل نہ ہو، لیکن چھوٹے بینرز اور بجٹ کی فلموں کو یقینا پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔‘

فلم ایگزیبیٹر اکشے راٹھی اس بات سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’کہانی میں جان ہو تو فلم چلتی ہے۔ پھر ہر فلم کی آڈینز بھی الگ ہوتی ہے۔ بڑے پروڈکشن ہاوسز کبھی کبھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے زیادہ اسکرینز حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن، اچھی فلم بہرحال کامیاب ہوجاتی ہے۔۔۔‘

XS
SM
MD
LG