رسائی کے لنکس

عراق : عیسائیوں کے بڑے پیمانے پر انخلاء کا انکشاف


عراق : عیسائیوں کے بڑے پیمانے پر انخلاء کا انکشاف

عراق : عیسائیوں کے بڑے پیمانے پر انخلاء کا انکشاف

اقوامِ متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ عراقی شہروں بغداد اور موصل کی مقامی عیسائی آبادی خود پر ہونے والے حملوں کے بعد بڑی تعداد میں محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہی ہے۔

ادارے کی ترجمان ملیسا فلیمنگ کے مطابق نومبر سے لے کر اب تک لگ بھگ ایک ہزار عیسائی خاندان دونوں شہروں سے کردستان اور نینوا کے علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے 31 اکتوبر کو بغداد کے ایک مرکزی گرجا گھر پر حملہ کرکے سو سے زیادہ افراد کو یرغمال بنالیا تھا۔ حملہ آوروں سے چرچ کا قبضہ چھڑانے کےلیے سرکاری افواج کے آپریشن میں 46 عیسائی شہری بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں سال اکتوبر میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے بغداد اور موصل میں عیسائی آبادیوں پر کئی چھوٹے بڑے حملے کیے جاچکے ہیں۔

جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران فلیمنگ کا کہنا تھا کہ مذکورہ شہروں سے نقل مکانی کرنے والےخاندانوں نے ادارے کو بتایا ہے کہ انہیں دھمکیاں موصول ہورہی تھیں جن کے سبب انہیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔

ترجمان کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے شام، اردن اور لبنان میں واقع دفاتر نے ان ممالک میں عراقی عیسائیوں کی بڑی تعداد میں منتقلی رپورٹ کی ہے۔

عراقی حکمران صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کےلیے امریکہ کے 2003 ء کے حملے سے قبل عراق میں 12 لاکھ کے لگ بھگ عیسائی مقیم تھے۔ تاہم اس حملے کے بعد ملک میں پھیلنے والی شورش اور القاعدہ سے منسلک عناصر کی دہشت گرد کارروائیوں میں تیزی آنے کے بعد سے عراقی عیسائی آبادی کی بڑی تعداد دوسرے ملکوں کو نقل مکانی کرگئی ہے۔

ادارے کی ترجمان نے یورپی ممالک کی جانب سے اپنی حدود میں مقیم عراقی شہریوں کی جبری بے دخلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یورپی ممالک سے عراق کے شورش زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو دوبارہ ان کے ملک بھیجنے کے عمل سے باز رہنے کی اپیل بھی کی۔

XS
SM
MD
LG