رسائی کے لنکس

نائیجیریا کے مشرقی شہر میں دھماکے اور فائرنگ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نائیجیریا کی فوج کی طرف سے بوکو حرام کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں لیکن اب بھی اس شدت پسند گروپ کے جنگجو اپنے حملے بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نائیجیریا کے شمالی شہر دماترو میں پیر کی صبح دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہے کہ یہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام کا علاقے میں حملہ ہے۔

علاقے کے لوگ بشمول یوبی ریاست کی یونیورسٹی کے طالب علم اپنی جان بچانے کے لیے جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

وائس آف امریکہ نے علاقے میں موجود ٹیلی ویژن کے رپوٹر سے بات بھی کی جو کہ جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا اور اُس کے مطابق مسلح افراد شہر کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں۔

ایک شخص نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پولیس کی بیرکوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

دماترو ریاست یوبی کا دارالحکومت ہے جہاں حال ہی میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے جنگجو کئی مہلک حملے کر چکے ہیں۔

حکام کا الزام ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران نائیجیریا میں بوکو حرام کے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس گروپ نے بورنو اور آداماوا کی ریاستوں پر قبضے کے بعد وہاں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کر رکھا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو نائیجیریا کے علاقے کانو میں ایک مسجد میں دھماکوں اور فائرنگ سے لگ بھگ 100 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

نائیجیریا کی فوج کی طرف سے بوکو حرام کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں لیکن اب بھی اس شدت پسند گروپ کے جنگجو اپنے حملے بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بوکو حرام ملک میں سخت اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG