رسائی کے لنکس

بقول ایک سینئر امریکی اہل کار، ڈیڈ لائن میں توسیع کی تجویز وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ایرانی ہم منصب، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو اتوار کے روز ویانا میں ملاقات کے دوران پیش کی

ایران کےجوہری پرگرام پر معاہدہ طے کرنے پر بات چیت کے حوالے سے، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں اب پیر کو ختم ہونے والی حتمی تاریخ میں توسیع پر غور کر رہی ہیں۔

ایک سینئر امریکی اہل کار نے کہا ہے کہ ڈیڈلائن میں توسیع کی تجویز وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ایرانی ہم منصب، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو اتوار کے روز ویانا میں ہونے والی ملاقات کے دوران پیش کی۔

امریکہ اور اُس کے ’فائیو پلس ون‘ اتحادی۔۔چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس ایران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کے سلسلے میں معاہدہ طے کرنے کے شرائط پر پہنچنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ اِس کے عوض، اتحادی ایران کی معیشت کے لیے نقصان دہ کچھ تعزیرات ہٹانے پر تیار ہوجائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کئی ماہ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد، اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ پیر کی شب تک کوئی سمجھوتا طے ہو سکے گا، جس ڈیڈلائن پر پہلے اتفاق کیا گیا تھا۔

اس سے قبل، ایران کی ’اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی‘ نے ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کی شناخت ظاہر کیے بغیر اتوار کو بتایا کہ ڈیڈلائن کے ختم ہونے میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ اس لیے، ایک نئے معاہدے کا امکان اب ممکن نہیں رہا، جب کہ کئی معاملات کو ابھی حل کرنا باقی ہے۔

اِس سے پیشتر، امریکی وزیر ِخارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے حوالے سے جوہری معاہدے پر پہنچنے پر ابھی تعطل برقرار ہے۔ جان کیری کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب ایران کے حوالے سے جوہری معاہدے پر پہنچنے کی ڈیڈ لائن بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔

امریکی وزیر ِخارجہ ہفتے کے روز ویانا میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے، جہاں انہوں نے اپنے جرمن ہم منصب سے بھی ملاقات کی۔

جرمنی کے وزیر ِخارجہ فرینک والٹر سٹینمئیر کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے آیا ایران جوہری ہتھیار کے حوالے سے تحقیق ختم کرنے پر راضی بھی ہے یا نہیں؟

فرانسیسی نیوز ایجنسی، اے ایف پی کے مطابق، ایران اور عالمی طاقتوں کےدرمیان ایران کے نیوکلئیر پروگرام کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنے کا امکان ابھی غیر واضح اور مبہم ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی ڈیل پر پہنچنے کی حتمی تاریخ 24 نومبر ہے۔

اس سے قبل جان کیری نے عالمی رہنماؤں اور واشنگٹن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ فون پر بھی اس معاملے پر گفتگو کی۔

امریکی وزیر ِخارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جن میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس شامل ہیں، ایران کے حوالے سے جوہری پروگرام کی 24 نومبر کی ڈیڈ لائن تک کسی معاہدے پر پہنچنا چاہتے ہیں اور اس تاریخ میں توسیع نہیں چاہتے۔

روسی وزیر ِخارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں بیان جاری کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل کے حوالے سے تمام جزئیات موجود ہیں۔ روسی وزیر ِخارجہ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے فریقوں کی جانب سے سیاسی مصلحت اور رضامندی ہونا ضروری ہے تاکہ کسی متوازن اور درست نتیجے تک پہنچا جا سکے۔

امریکہ بہت عرصے سے ایران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور ایران کا موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG