رسائی کے لنکس

بھتہ خوری: کئی بینک اور برادریاں بھی زد میں آگئیں

  • کراچی

کئی دوسرے شہروں سے بھی بھتہ خوری کے واقعات کی اطلاعات آنے لگی ہیں، جبکہ کئی ایک واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں جِن میں بھتہ خوروں کا دائرہ بیرون ملک تک پھیلا نظر آتا ہے

کراچی میں اب سے کچھ ماہ پہلے شروع ہونے والی بھتہ خوری کی ’وبا‘ اس تیزی سے آگے بڑھی ہے کہ اس سے نمٹنا ہر گزرتے وقت کے ساتھ مشکل سے مشکل تر ہوتاجارہا ہے۔

اس سے جڑا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ کئی دوسرے شہروں سے بھی بھتہ خوری کے واقعات کی اطلاعات آنے لگی ہیں، جبکہ کئی ایک واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں جن میں بھتہ خوروں کا دائرہ بیرون ملک تک پھیلا نظر آتا ہے۔

صدر تھانے میں تعینات ایک پولیس اہلکار محمد اسلم نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا،’کراچی میں سب سے پہلے مختلف چھوٹے بڑے دکانداروں سے بندوق کی نوک پر’چندہ‘ مانگا جاتا تھا۔ چندہ مانگنے والے اپنا تعلق کسی نہ کسی سیاسی تنظیم سے بتاتے تھے۔ لیکن، جب سیاسی تنظیموں نے اس سے انکار کیا، تو بھتہ خور اپنا تعلق زیر زمین مافیا، طالبان اور گینگ وار سے بتانے لگے۔‘

محمد اسلم کا مزید کہنا ہے کہ، ’دکانداروں نے جان بچانے کی غرض سے چندہ دینا شروع کیا تو بھتہ خوروں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی اپنے زیراثر کرلیا۔۔۔ اور آج عالم یہ ہے کہ شہر کی کوئی فرنچائز، ہوٹل، مال، اسکول، کارخانہ اور فیکٹری نہیں بچی جس سے بھتہ نہ طلب کیا گیا ہو۔‘

ماڑی پور روڈ پر واقع کچھ نجی بینکوں کو بھی بھتے کی پرچیاں تقسیم کی گئی ہیں۔ اس بات کا انکشاف حساس ادارے کے ڈائریکٹر کی طرف سے حکومت سندھ کو بھیجی خانے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والے ایک انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے چیف سکریٹری سندھ اعجاز چوہدری کو یکم اگست کو ایک مراسلہ بھیجا گیا تھا جس میں بتایا گیا ہے کہ لیاری کے علاقے ماڑی پور روڈ پر واقع پانچ بینکوں کو کالعدم تنظیموں کی طرف سے علیحدہ علیحدہ بھتے کی پرچیاں ملی ہیں، جِن میں بینک منیجرز سے دس دس لاکھ روپے کی رقم طلب کی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دستی بموں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی دوسری وجہ بھتہ خوری ہی ہے۔ بھتہ خور اکثر دکانوں اور تجارتی مراکز پر حملے بھتہ وصول نہ ہونے یا بھتے سے انکار کی صورت میں اس کے مالک کو ڈرانے کے لئے کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگار اور آزاد خیال مبصرین کراچی میں منگل کی رات اسماعیلی برادری کے جماعت خانوں پر ہونے والے حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ’اسماعیلی برادری بے ضرر اور ملنسار ہے۔ وہ کسی قسم کے جھگڑے میں نہیں پڑتی۔ برادری کے بیشتر لوگ تجارت سے وابستہ ہیں جس کی وجہ سے انہیں مخیر تصور کیا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کسی نے اس برادری سے بھی بھتہ طلب کیا ہو اور نہ ملنے کی صورت میں، جماعت خانوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔‘

پولیس اور تحقیقی ادارے اس واقعے کی اپنے طور پر تفتیش کریں گے، تبھی اصل وجوہات سامنے آسکیں گی۔ تاہم، جماعت خانوں پر حملے بھتہ خوری اور دہشت گردی کے ایک نئے پہلو کو ضرور اجاگر کرتے ہیں۔

اسماعیلی برادری سے قبل گذشتہ سال بوہرہ برادری کے جماعت خانے واقع حیدری کراچی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ جماعت خانے کے باہر بم دھماکے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔ کراچی کے علاوہ حیدرآباد میں بھی بوہری برادری کے افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بوہری برادری بھی کراچی میں تجارت سے وابستہ ہے۔
XS
SM
MD
LG