رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: ماورائے عدالت سزاؤں پر پابندی

  • پرویز حفیظ

بنگلہ دیش

بنگلہ دیش

بنگلہ دیش میں ہائی کورٹ نے تمام ماورائے عدالت سزاؤں کو غیر قانونی قراردے دیا ہے۔ ان میں پنچائتوں کے ذریعے اورفتوے کے طورپر دی جانے والی سزائیں بھی شامل ہیں۔عدالت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عذر داری کی سماعت کے بعدیہ فیصلہ سنایا۔

جسٹس سید محمود حسین اور جسٹس گوبندچند ر ٹیگور پر مشتمل ہائی کورٹ کی ایک دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جوشخص اس طرح کی ماورائے عدالت سزائیں سناتا ہے یا ان پر عمل درآمد کرتا ہے ، اسے مجرمانہ فعل کے ارتکاب کی سزا ملنی چاہیے۔

عدالت نے حکومت کو یہ حکم دیا کہ وہ خصوصی طور ایسے تمام لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو خواتین کے خلاف فتوےٰ جاری کرکے انہیں جسمانی اور ذہنی اذیت دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی حقوق انسانی کی تنظیموں نے ہائی کورٹ کے سامنے تین الگ الگ اپیلیں دائر کی تھیں، جن میں اخبارات کے حوالے سے اور خود ان کے کارکنوں کے ذریعے کی گئی تحقیقات سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ معمولی معمولی باتوں پر اور جھوٹے سچے الزامات عائد کرکے خواتین کے خلاف فتوےٰ جاری کیے جارہے ہیں اور انہیں سرعام سزائیں دی جارہی ہیں۔

تنظیموں نے ایسی مثالیں عدالت کے سامنے پیش کیں، جن میں عورتوں پر جنسی بے راہروی کا الزام لگا کر انہیں سرعام کوڑے مارے گئے۔کئی واقعات میں تو آبروریزی کی شکار مظلوم خاتون تک کو سزا دی گئی۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کردیا کہ شریعت کے نام پر گاؤں کی پنچایت یا علما اگرسزاؤں کا حکم صادر کرتے ہیں تو انہیں جیل کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG