رسائی کے لنکس

مصر: چار نوجوانوں کو مسلم عبادات کے تمسخر کے الزام میں سزا


لیبیا میں داعش کے ہاتھوں قبطی مسیحیوں کے قتل کے بعد ایک مصری نوجوان مظاہرے میں شریک۔ فائل فوٹو

لیبیا میں داعش کے ہاتھوں قبطی مسیحیوں کے قتل کے بعد ایک مصری نوجوان مظاہرے میں شریک۔ فائل فوٹو

تیس سیکنڈ کی ایک وڈیو میں ان لڑکوں کو مسلم عبادت کی نقل کرتے دیکھا جا سکتا ہے جن میں ایک قرانی آیات پڑھتا ہے جبکہ اس کے پیچھے دو لڑکے کھڑے ہیں جنہیں ہنسی آ رہی ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے چار مسیحی نو عمر لڑکوں کو اسلام کی توہین کرنے کا مجرم ٹھہرایا ہے۔ یہ لڑکے ایک مختصر وڈیو میں نظر آتے ہیں جس میں مسلمانوں کی عبادات کی نقل اتاری گئی ہے۔

اپریل 2015 میں انٹرنیٹ پر بہت مرتبہ دیکھی اور شیئر کی جانے والی یہ وڈیو گزشتہ سال لیبیا میں داعش کی طرف سے درجنوں قبطی مسیحیوں کے سر قلم کرنے کے بعد بنائی گئی تھی۔

جنوبی منیا صوبے میں ایک عدالت نے جعمرات کو تین لڑکوں کا پانچ سال قید جب کہ چوتھے کو نو عمر بچوں کے ایک مرکز میں غیر معینہ مدت کے لیے بھیجنے کی سزا سنائی۔

تیس سیکنڈ کی اس وڈیو میں ان لڑکوں کو مسلم عبادت کی نقل کرتے دیکھا جا سکتا ہے جن میں ایک قرآنی آیات پڑھتا ہے جب کہ اس کے پیچھے دو لڑکے کھڑے ہیں جنہیں ہنسی آ رہی ہے۔ ان میں سے ایک دوسرے کی گردن پر ہاتھ پھیرتا ہے جیسے اس کا سر قلم کر رہا ہو۔

نو عمر لڑکوں کے وکیل ماہر نقیب نے کہا کہ یہ سزا ’’ناقابل یقین‘‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لڑکے نابالغ ہیں اور عدالت کو انہیں جرمانے کی سزا سنانی چاہیئے تھی۔

ماہر نقیب نے کہا کہ نوعمر لڑکوں کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کا فیصلہ ہو جانے تک وہ آزاد رہیں گے۔

سزا پانے والے ایک لڑکے کی والدہ ایمان گرگس نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بیٹے کو ہنسنے پر پانچ سال قید سزا سنائی گئی۔ کیا یہ ممکن ہے؟ یہ کیسا انصاف ہے؟‘‘

مصر کی آبادی کا دس فیصد حصہ مسیحیوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے سابق آرمی چیف اور موجود صدر عبدالفتاح السیسی کی بھرپور حمایت کی تھی جنہوں نے جولائی 2013 میں صدر محمد مرسی کو اقتدار سے معزول کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا مصر پر انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے جن میں سیاسی مخالفین اور اقلیتی برادریوں کے خلاف مقدموں کی غیر منصفانہ سماعت شامل ہیں۔

روزنامہ ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک فوجی عدالت نے ایک چھوٹے بچے احمد منصور شرارہ کو تین افراد کو قتل کرنے، بندوقین اور آتشیں بم رکھنے، ٹائر جلا کر سڑک بلاک کرنے اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔

سزا پر شور مچنے کے بعد مصری فوج نے کہا کہ ایسا غلط شناخت کی وجہ سے ہوا۔

XS
SM
MD
LG