رسائی کے لنکس

ایف-16 طیاروں کی فروخت پر بھارت کو تشویش نہیں ہونی چاہیے: پینٹاگون


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارت نے اوباما انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کو مزید آٹھ ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

امریکہ کے محکمہ دفاع نے کہا ہے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت بھارت کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ اس معاہدے میں ’’ہمیشہ‘‘ علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھا گیا۔

محکمہ دفاع نے یہ بھی کہا کہ یہ طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کریں گے۔

بھارت نے اوباما انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کو مزید آٹھ ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان نے کہا تھا کہ بھارت کے ردعمل پر اسے مایوسی سے زیادہ حیرت ہوئی ہے کیونکہ بھارت اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے جنگی ساز و سامان کا ذخیرہ پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

ایک پریس بریفنگ میں پینٹاگان کے ترجمان پیٹر کُک نے کہا کہ امریکہ، پاکستان اور بھارت سے اپنے تعلقات کو دو علیحدہ معاملات سمجھتا ہے۔

’’ہمارا خیال ہے کہ یہ طیارے دہشت گردوں سے جنگ میں پاکستان کی صلاحیت کے لیے اہم ہیں۔ نتیجتاً ہمارا نہیں خیال کہ بھارت کو اس سے تشویش ہونی چاہیئے۔‘‘

امریکہ کی ڈیفنس سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے کانگریس کو جاری کیے گئے نوٹیفیکشن میں کہا گیا تھا کہ اس فروخت سے خطے میں عمومی عسکری توازن خراب نہیں ہو گا۔

پینٹاگان کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’’صورتحال یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صلاحیت پاکستان کو انسداد دہشت گردی میں مدد کرے گی اور ہمارا خیال ہے کہ یہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔‘‘

نوٹیفیکشن جاری ہونے کے بعد30 دن کے اندر اس معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG