رسائی کے لنکس

فیس بک کا زیادہ استعمال اداسی کا موجب، تحقیق


فیس بک کا زیادہ استعمال اداسی کا موجب، تحقیق

فیس بک کا زیادہ استعمال اداسی کا موجب، تحقیق

امریکی ریاست یوٹاہ کے شہر اورم میں واقع 'یوٹاہ ویلی یونی ورسٹی' سے منسلک محققین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ویب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زیادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران میں سامنے آنے والی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد ان ذرائع سے اجتناب برتنے والوں کے مقابلے میں زیادہ افسردہ زندگی گزارتے ہیں۔

لیکن اب ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ سماجی رابطوں کے ذرائع اور ویب سائٹس، مثلاً فیس بک، بھی خوشی کے جذبات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

امریکی ریاست یوٹاہ کے شہر اورم میں واقع 'یوٹاہ ویلی یونی ورسٹی' سے منسلک محققین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ویب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زیادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔

یونی ورسٹی کے محققین یہ جاننا چاہتے تھے کہ فیس بک کا استعمال کرنے والے افراد میں اپنے دوستوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے نتیجے میں کس قسم کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے محققین نے 425 نوجوان طالبِ علموں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ کیا دوسرے لوگ ان سے بہتر اور زیادہ پرمسرت زندگی گزار رہے ہیں۔ بعد ازاں محققین نے طالبِ علموں کا ان بنیادوں پر جائزہ لیا کہ وہ کب سے فیس بک کا استعمال کر رہے ہیں اور ہر ہفتے کتنے گھنٹے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں تاک جھانک کرتے گزارتےہیں۔

تحقیقی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ فیس بک کا زیادہ استعمال کرنے والے طلبہ کی اکثریت دوسروں کو اپنے سے زیادہ خوش اور آسودہ خیال کرتی ہے۔

ماہرِ نفسیات ٹاڈ کیشڈان 'جارج میسن یونی ورسٹی' میں خوشی اور آسودگی جیسے مضامین کے طالبِ علم رہے ہیں اور انہوں نے یوٹاہ یونی ورسٹی کی اس تحقیق کے نتائج کا مطالعہ کیا ہے۔

کیشڈان کہتے ہیں کہ ایسے طلبہ کے علم میں فیس بک کے ذریعے اپنے دوستوں کے خوش گوار حالات آتے ہیں اور وہ ان کا خود سے موازنہ کرکے اپنے آپ کو کم خوش نصیب خیال کرنے لگتے ہیں۔

کیشڈان کے بقول یہ طلبہ سمجھتے ہیں کہ "مری زندگی تو اتنی دلچسپ اور اطمینان بخش نہیں ہے جتنی اوروں کی ہے" اور یہ سوچ ان میں اداسی کو جنم دیتی ہے۔

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس نتیجے کی ایک وجہ ان طلبہ کا 'کرسپانڈنس بائی یس' نامی نفسیاتی اثر کا شکار ہونا ہوسکتا ہے جس میں انسان دوسروں کے اصل حالات سے واقف ہوئے بغیر اس کےظاہری مزاج اور شخصیت کی بنیاد پر اس کے بارے میں رائے قائم کرلیتا ہے۔

مصنفین کے مطابق فیس بک پہ موجود اپنے دوستوں کے بارے میں یہ تصور کرنا بہت آسان ہے کہ وہ اتنے ہی خوش ہیں جتنا ان کی پروفائل سے ظاہر ہوتا ہے کیوں کہ لوگ عموماً سماجی رابطوں کی اس ویب سائٹ پر مثبت چیزوں کا اظہار کرتے ہیں اور منفی اور حوصلہ شکن رویوں اور واقعات کا ذکر نہیں کرتے۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ فیس بک اور سماجی رابطوں کے دیگر وسائل دنیا اور لوگوں سے رابطے کا ایک قابلِ قدر ذریعہ ہیں۔ لیکن اگر ان کا استعمال چند "پرہیزی ہدایات" پر عمل کرتے ہوئے کیا جائے تو مناسب ہوگا۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ فیس بک پر دوسرے لوگوں کے اچھے واقعات کو جاننے میں زیادہ وقت صرف کرنے کے بجائے اپنے خوش گوار واقعات دوسروں کے علم میں لانا چاہئیں اور ان افراد پر توجہ دینی چاہیے جو آپ کے حقیقی دوست ہیں اور آپ کے معاملات اور حالات کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔

ماہرین نفسیات یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ اگر فیس بک صارفین ویب سائٹ پر ایسے 'فیس بک فرینڈز'کے بجائے جنہیں وہ زیادہ نہیں جانتے ہیں، ان افراد سے زیادہ رابطے میں رہیں جو حقیقی زندگی میں بھی ان کے دوست ہوں تو وہ 'یوٹاہ یونی ورسٹی' کی اس تحقیق میں بیان کیے گئے اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG