رسائی کے لنکس

فیس بک کی مقبولیت میں اضافہ اور بلاگنگ کے رجحان میں کمی : نئی جائزہ رپورٹ


فیس بک کی مقبولیت میں اضافہ اور بلاگنگ کے رجحان میں کمی : نئی جائزہ رپورٹ

فیس بک کی مقبولیت میں اضافہ اور بلاگنگ کے رجحان میں کمی : نئی جائزہ رپورٹ

انٹرنیٹ سے متعلق ایک تازہ رپورٹ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ نوعمر افراد سوشل نیٹ ورکنگ کے لیے فیس بک کا زیادہ استعمال کررہے ہیں اور ٹویٹر میں ان کی دلچسپی کم ہوئی ہے، جب کہ نوجوان اب اتنی بلاگنگ بھی نہیں کررہے جتنی کہ وہ پہلے کیا کرتے تھے۔

پیو کی ریسرچر Amanda Lenhart کا، جو اس رپورٹ کی شریک مصنف بھی ہیں ، کہنا ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ حیرت اس چیز سے ہوئی کہ امریکہ میں بلاگنگ ،سوشل میڈیا اور موبائل انٹرنیٹ میں ٹین ایجرز اور نوجوانوں کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔

یہ رپورٹ گذشتہ ستمبر میں ٹیلی فون کے ذریعے کیے گئے دوجائزوں کے اعدادو شمار سے ترتیب دی گئی ہے۔ پہلے جائزے میں 12 سے 17 برس تک کے نو عمر افراد سے انٹرویو کیے گئے تھے جب کہ دوسرے جائزے میں 18 برس سے زیادہ عمر کے لوگ شامل تھے۔

لین ہارٹ کا کہنا ہے کہ 2006ء میں نوعمر اور بالغ افراد میں بلاگنگ کی شرح 28 فی صد تھی جو 2009 ء میں نصف ہوکر 14 فی صد رہ گئی۔رپورٹ کے مطابق 12 سے17 سال کی عمر کے نوجوانوں میں یہ کمی 15 فی صد ہوئی جب کہ 18 سے29 سال کی عمروں کے افراد میں کمی کی یہ شرح 15 فی صد تھی۔

رپورٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ 2006 ء میں 30 سال سے بڑی عمر کے افراد میں بلاگنگ کی شرح سات فی صد تھی جو 2009ء میں بڑھ کر11 فی صد ہوگئی۔

Lenhart کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی ایک نمایاں تعداد مائی سپیس سے فیس بک کی طرف منتقل ہوئی ہے۔

یوایس اے ٹوڈے میں شائع ہونے والی اس جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 سے بڑی عمر کے افراد میں وائرلس رابطوں اور سوشل نیٹ ورکنگ کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔

چند سال پہلے تک ٹویٹر نوجوانوں کی ایک مقبول نیٹ ورک سائٹ تھی ۔ لیکن یہ تازہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ اب اس سائٹ کو استعمال کرنے والے 12 سے17 سال کے نوعمر وں کی تعداد صرف آٹھ فی صد رہ گئی ہے۔

Lenhart کہتی ہیں کہ ٹویٹر سے ٹین ایجر زکی دوری کی ایک وجہ ممکنہ طورپر اس کی بلاگنگ کا انداز ہےجہاں کچھ بہتر لفظوں میں خیالات پیش کیے جاتے ہیں جب کہ نوعمر افراد فیس بک کو اپنی چیٹنگ کی ضروریات پوری کرنے والی ایک ویب سائٹ سمجھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG