رسائی کے لنکس

پاکستانی نژادامریکی شہری،فہد ہاشمی نےدہشت گردی کےجرم کا اعتراف کرلیا

  • کیرولین ویور

فہد ہاشمی کا حمایتی کتبہ اُٹھائے ہوئے

فہد ہاشمی کا حمایتی کتبہ اُٹھائے ہوئے

امریکی شہری سید فہد ہاشمی نے اپنے مقدمے کی سماعت کے موقع پر ایک دہشت گرد تنظیم کو مالی معاونت کی فراہمی کی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔

اُس کے اقبال جرم کے عوض امریکی وفاقی استغاثہ اُس کے خلاف دہشت گردی کے لیے مالی امدد فراہم کرنے کی سازش کے تین اور مقدمات نہیں چلائے گا۔ اگر ہاشمی کے خلاف چاروں جرائم ثابت ہوجاتے تو اُسے 70سال تک کی قید کا سامنا ہوسکتاتھا۔

30 سالہ پاکستانی نژاد امریکی شہری کو، جو نیویارک میں پلا بڑھا تھا، 2007ء سے مقدمے کی سماعت سے پہلے مین ہیٹن میں قید تنہائی میں رکھا جارہاتھا۔منگل کی سہ پہر مقدمے کی سماعت سے پہلے ،اُسے وہاں سے ایک بلاک کے فاصلے پر واقع ایک وفاقی عدالت میں دہشت گردی کے لیے مالی تعاون کی سازش کے ایک جرم کا اعتراف کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔
ایک تحریری بیان میں جنوبی ضلع کے امریکی اٹارنی پریت بھرارا نے کہا کہ ہاشمی کواب اِس مقدمے کا سامنا ہوگا جس کے مطابق اُس نے اُن دہشت گردوں کومالی امداد دی تھی، جن کے بارے میں اُسے پوری طرح علم تھا کہ وہ امریکہ کو نقصان پہچادنے کے درپے تھے۔

ہاشمی کے بھائی فیصل نے بتایا کہ یہ مقدمہ 2004ء میں اُس وقت شروع ہوا تھا جب ہاشمی لندن میں گریجویشن کررہاتھا اور نیویارک سے تعلق رکھنے والا اس کا ایک واقف کار جنید بابر دوہفتے کے دورے کے دوران اس کے پاس ٹہراتھا۔

فیصل نے بتایا کہ اُس شخص کے پاس لندن میں ٹہرنے کی کوئی جگہ نہیں تھی اور بنیادی طورپر اُس نے میرے بھائی کو ٹیلی فون کیا اور اُسے اپنے پاس ٹہرنے کی جگہ مانگی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق بابر اپنے ساتھ ایک سوٹ کیس لایا جِس میں رین کوٹ، برساتیاں اورواٹر پروف جرابیں تھیں۔ جو اُس نے بعد میں پاکستان کے علاقے وزیرستان میں القاعدہ کے ایک لیڈر کو دی تھیں۔اُس نے القاعدہ کے ایک اور رکن سے رابطے کے لیے ہاشمی کا سیل فون بھی استعمال کیا تھا۔

بابرنے2004ء میں اقبال جرم کیا اور اپنے علاج کے عوض برطانیہ اور کینڈا میں دہشت گردی کے مقدمات میں شہادت کے لیے وعدہ معاف گواہ بن گیا۔وہ ہاشمی کے خلاف سب سے اہم متوقع گواہ تھا۔

یہ مقدمہ لبرل جسٹس گروپس کے لیے اہمیت اختیار کرچکا ہےجو مقدمے سے قبل ہاشمی کی قید کے حالات پر اعتراض کررہے ہیں۔ ہاشمی کو مین ہیٹن کی جیل کی کوٹھری میں لگ بھگ تین سال تک دن کے 23 گھنٹوں کے لیے تنہا رکھا جاتا تھا۔

بروک لین کالج کی سیاسیات کی پروفیسر ژاں تھیو ئارس نے ہاشمی کو پڑھایا تھا اور اُنو ں نے اُس کے مقدمے کی تشہر کے لیے ایک مہم منظم کرنے میں بھی مدد کی تھی جس میں مین ہیٹن میں چندہ اکھٹا کرنے کی ایک حالیہ مہم بھی شامل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہاشمی کی قید کے حالات اذیت رسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اِس قسم کے حالات غیر انسانی ہیں۔ یہ بین الااقوام معیار کے منافی ہیں۔ یہ لوگوں کی اہلیت پراور مسٹر ہاشمی کی جانب سے خود اپنا دفاع کرنے کی اہلیت پر ایک غیر مناسب سودے بازی کے مترادف ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ یہ غیر امریکی رویہ ہے۔

نیویارک کے جنوبی ضلع کے سابق امریکی اٹارنی ٹونی بارکو اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عدالتوں کو مستقلا طورپر یہ معلوم ہوا کہ ہاشمی کو جیل میں جن حالات میں رکھا گیا ، وہ ظلم اور غیر معمولی سزا کے زمرے میں نہیں آتے۔

وہ کہتے ہیں کہ نفسیاتی کتابوں یا نفسیاتی رائے چاہے کچھ بھی کیونہ ہو، قانون کے مطابق وہ حالات آئین کے منافی نہیں اور ان سے قانون اور ہاشمی کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

سرکاری وکیلوں نے عدالت میں اپنے دلائل میں کہا کہ ہاشمی کےلیے بیرونی دنیا سے رابطوں کے کسی بھی امکان کو ختم کرکے جیل میں الگ تھلگ رکھنا عام لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔جون میں سزا ملنے کے بعد آیا ہاشمی کو اسی طرح کی قید تنہائی میں رکھا جائے گا، ممکنہ طورپر یہ بات اس حمائتی گروپ کی توجہ کا مرکز ہوگی جو مین ہیٹن جیل کے باہر ہاشمی کی جانب سے باقاعدگی سے احتجاج کرچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG