رسائی کے لنکس

ٹینس سٹار نے اس فیصلے کو "ایک غیرمنصفانہ اور سخت" سزا قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کھیلوں میں ثالثی کی عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روس کی ٹینس سٹار ماریا شراپوا کو کارکردگی بڑھانے کے لیے ممنوع دوا کے استعمال پر دو سال کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

رواں سال جولائی میں ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد سے سابق عالمی نمبر ایک ٹیس اسٹار کو خاصی تنقید کا سامنا رہا۔

بدھ کو ٹینس کے لیے اینٹی ڈوپنگ پروگرام کے تین رکنی ٹربیونل نے ماریا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ دیا۔ یہ ٹربیونل ٹینس کی بین الاقوامی فیڈریشن نے تشکیل دیا تھا۔

ٹینس سٹار نے اس فیصلے کو "ایک غیرمنصفانہ اور سخت" سزا قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کھیلوں میں ثالثی کی عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپیل کے دورانئے میں بھی ماریا ٹینس مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔

مارچ میں لاس اینجلس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ماریا نے اعتراف کیا تھا کہ وہ میلبورن میں کیے گئے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہی ہیں۔ جس روز ان سے ڈوپ ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے گئے تھے اسی روز وہ امریکی ٹینس اسٹار سرینا ولیمز سے آسٹریلوی اوپن ٹینس کا کوارٹر فائنل ہار گئی تھیں۔

ماریا شراپوا

ماریا شراپوا

وہ اپنے بعض طبی مسائل کی وجہ سے میلڈونیئم نامی دوا گزشتہ دس سالوں سے استعمال کرتی آرہی تھیں اور اس دوا کو رواں سال کے اوائل میں ہی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے ممنوعہ ادویات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

ماریا کے بقول انھوں نے نئی فہرست سے متعلق کی جانے والی ای میل نہیں دیکھی تھی۔

انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ماریا شراپوا پر پابندی کا اطلاق جنوری سے ہی ہوگا کیونکہ انھوں نے فوری طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تھا۔

ایسے معاملات میں انھیں چار سال تک کی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔

XS
SM
MD
LG