رسائی کے لنکس

زیادتی یا نظرانداز، چھ برس میں 786 بچے فوت: رپورٹ


فائل

فائل

اے پی کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کی ہلاکت سے متعلق اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے نظام میں اتنے نقائص ہیں کہ کوئی بھی یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہر سال کتنے بچے جسمانی زیادتی یا نظرانداز ہونے کے باعث فوت ہوتے ہیں

ایسو سی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ زیادتی یا نظرانداز ہونے کے باعث، پچھلے چھ برس کے دوران، امریکہ میں کم از کم 786 بچے فوت ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی حفاظت پر مامور اہل کار اِن اموات سے متعلق باخبر تھے۔

اے پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آٹھ ماہ کی چھان بین کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی بچوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا، فاقہ کشی پر مجبور ہوئے یا پھر اُنھیں اُن کے حال پر چھوڑ دیا گیا، جب کہ اِن اداروں کو یہ بخوبی علم تھا کہ اُن کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔


اے پی نے یہ سروے 50 امریکی ریاستوں کے علاوہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا اور فوج کی شاخوں سے معلومات اکٹھی کر کے کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد ریاستوں کو اعداد و شمار فراہم کرنے میں دقت درپیش تھی، جب کہ اکثر و بشتر رازداری کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ 786 میں سے فوت ہونے والےزیادہ تر بچے چار برس سے کم عمر کے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ بچے اُس وقت فوت ہوئے جب حکام اُن کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کر رہے تھے، یا پھر ایسے بچوں کو تحفظ فراہم کیا گیا جو اپنے گھروں میں نظرانداز ہوئے یا مسائل کا شکار رہے۔


اے پی کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کی ہلاکت سے متعلق اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے نظام میں اتنے نقائص ہیں کہ کوئی بھی یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہر سال کتنے بچے جسمانی زیادتی یا نظرانداز ہونے کے باعث فوت ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG