رسائی کے لنکس

اورلینڈو شوٹنگ: لواحقین کا سوشل میڈیا اداروں کے خلاف مقدمہ


یہ قانونی چارہ جوئی فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر کے خلاف کی گئی ہے، جس میں الزام لگایا ہے کہ اِن اداروں نے سماجی میڈیا پر اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت دے کر داعش کے جہادیوں کے لیے یہ ممکن بنایا کہ وہ اپنا پیغام پھیلا سکیں اور رقوم اکٹھی کر سکیں

اس سال کے اوائل میں اورلینڈو کے نائٹ کلب، ’پَلس‘ میں ہونے والےشوٹنگ کے واقع میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ نے سماجی میڈیا کے اداروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں مسلح شخص کو ’’مادی حمایت‘‘ فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ قانونی چارہ جوئی ’فیس بک‘، ’گوگل‘ اور ’ٹوئٹر‘ کے خلاف کی گئی ہے، جس میں ٹوین کروسبی، جیوئر جارج ریس اور یوان رمون گرریرہ نے الزام لگایا ہے کہ اِن اداروں نے سماجی میڈیا پر اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت دے کر داعش کے جہادیوں کے لیے یہ ممکن بنایا کہ وہ اپنا پیغام پھیلا سکیں اور رقوم اکٹھی کر سکیں۔

مقدمے کے مطابق، سماجی میڈیا اداروں کی جانب سے مبینہ مادی حمایت کے سبب ’’داعش کو بڑھاوا ملا اور اِس سہولت کو کئی ایک دہشت گرد حملوں پر عمل درآمد کے لیے استعمال کیا گیا‘‘۔

پَلس نائٹ کلب شوٹنگ میں ملوث مسلح شخص، عمر متین نے داعش کے شدت پسند گروپ کے ساتھ اپنی وفاداری کا کئی بار اعادہ کیا، جس کے بعد اُس نے حالیہ امریکی تاریخ کے مہلک ترین اجتماعی شوٹنگ کے واقعے میں 49 افراد کو ہلاک اور 53 کو زخمی کیا۔

’فیس بک‘ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں اِس بات کی تردید کی گئی ہے کہ ادارہ کسی طور پر دہشت گردی سے متعلق مواد کو جگہ فراہم کرتا ہے، اور کہا کہ جب کبھی اِس بات کی نشاندہی ہوتی ہے، ایسے مواد کو فوری طور پر ہٹا دیا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم ایسی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں جس سے فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو تحفظ کا احساس ہو‘‘۔

تاہم، بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم ہلاک و زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں‘‘۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG