رسائی کے لنکس

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے امریکی شہری پیٹر کاسنگ کو گزشتہ سال شام سے اغوا کیا تھا۔ پیٹر کاسنگ یہاں بے گھر افراد کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے امریکی امدادی کارکن کے والدین نے اس تنظیم نے اپیل کی ہے کہ "رحم کریں" اور ان کے بیٹے کو چھوڑ دیں۔

وسط مغربی امریکی ریاست انڈیانا میں ایڈ اور پاولا کاسنگ نے ایک وڈیو میں درخواست کی جس میں ان کے پیغام کا عربی میں ترجمہ بھی تحریر کیا گیا۔

ان کے 26 سالہ بیٹے پیٹر کاسنگ کو ایک سال قبل شام میں اغوا کیا گیا تھا۔ پیٹر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس دوران وہ اسلام قبول کر کے اپنا نام عبدالرحمن رکھ چکا ہے۔

اس کے والدین کا کہنا ہے کہ اس نے شام کے پناہ گزینوں کے لیے ایک امدادی تنظیم بنائی تھی اور اسی سلسلے میں شام میں تھا جب سے یرغمال بنالیا گیا۔ 2012ء میں بنائی کی پیٹر کاسنگ کی تنظیم شام کی خانہ جنگی سے بے گھر ہونے والوں کے لیے خوراک، کپڑے اور طبی امداد فراہم کرتی رہی۔

کاسنگ 2004ء میں امریکی فوج میں بھرتی ہوا2007ء میں عراق میں تعیناتی کے دوران طبی بنیادوں پر وہ فوج سے برخاست ہوا۔ بعد ازاں اس نے اسپیشل ایمرجنسی رسپانس اینڈ اسسٹنس قائم کی۔

یرغمالی کے والدین نے وڈیو پیغام میں اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس پر اور شام کے لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے جانے والے کام پر "بہت فخر" ہے۔

اس کی والدہ کا کہنا تھا کہ "سب سے بڑھ کر یہ کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم تم سے محبت کرتے ہیں اور ہمارا دل تمہاری رہائی کے لیے تڑپتا ہے، کہ ہم تمہیں دوبارہ اپنے سینے سے لگائیں اور پھر تمہیں تمہاری اختیار کردہ زندگی گزارنے دیں، وہ زندگی جو ان لوگوں کی خدمت کے لیے ہے جو بہت ضرورت مند ہیں۔"

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے جمعہ کو جاری کردہ ایک وڈیو میں ایک برطانوی امدادی کارکن ایلن ہننگ کو مبینہ طور پر قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اسی وڈیو میں انھوں نے پیٹر کاسنگ کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ہننگ حالیہ ہفتوں میں شدت پسند تنظیم کی طرف سے یرغمالی کے بعد قتل کیے جانے والے چوتھے مغربی شہری تھے۔

XS
SM
MD
LG