رسائی کے لنکس

بڑھتی ہوئی آبادی کی ذمے دار ۔۔’مردوں کی حاکمانہ سوچ ‘

  • کراچی

خواتین ذہنی طور پر اپنے مردوں سے اس قدر ڈرتی ہیں کہ مانع حمل گولیاں تک استعمال نہیں کرتیں اور غیر محفوظ اسقاط حمل کو ترجیح دیتی ہیں۔۔۔

پاکستان کی اکثر خواتین خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کو اپنانے سے نہیں ڈرتیں بلکہ اس سے زیادہ اپنے شوہروں سے خوف کھاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود فیملی پلاننگ کے جدید اور آسان طریقے بھی عام نہیں ہوسکے۔

محکمہ بہبود آبادی سندھ کے سیکریٹری شاہ فیصل ظاہر تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ذمے دار’مردوں کی حاکمانہ سوچ ‘ ہے‘۔

اُن کے بقول، ’بیشتر مردعورتوں کو اپنی مرضی کے خلاف فیملی پلاننگ کے طریقے اختیارہی نہیں کرنے دیتے۔خواتین ذہنی طور پر اپنے مردوں سے اس قدر ڈرتی ہیں کہ مانع حمل گولیاں تک استعمال نہیں کرتیں اور اس کے مقابلے میں غیر محفوظ اسقاط حمل کو ترجیح دیتی ہیں۔۔۔نتیجہ۔۔ عورتوں میں اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ہے، ’ہمارے یہاں ایسے مردوں کی کوئی کمی نہیں جو فیملی پلاننگ کی راہ میں خود سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔‘

’وائس آف امریکہ‘ سے انٹرویو میں شاہ فیصل ظاہر کا کہنا ہے کہ، ’ایسے مرد محض مردانہ حاکمیت کی جھوٹی شان بھگاتے ہوئے عورتوں کو دبا کر رکھتے ہیں، جس سے عورتوں کے ذہن میں یہ خوف گھر کرجاتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف فیملی پلاننگ کی تو وہ انہیں ’چھوڑ‘ دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین چاہ کر بھی اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ پاتیں، یہاں تک کہ فیملی پلاننگ کے نہایت جدید اور سہل طریقے بھی اپناتے ہوئے ڈرتی ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ، ’فیملی پلاننگ کے لئے ضروری نہیں کہ صرف خواتین ہی اس کا خیال رکھیں۔ بلکہ، مردوں کے لئے بھی فیملی پلاننگ کے بہت سے طریقے ہیں۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ محکمہ آبادی مردوں کو باقاعدہ فیملی پلاننگ کے کورس بھی کراتا ہے اور اس کےحیرت انگیز طور پر مفید نتائج بھی حاصل ہورہے ہیں۔ لیکن، اب بھی مردوں کو ذہنی طور پر فیملی پلاننگ کے طریقے اپنانے کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی کی ضرورت ہے۔‘

کراچی کی نسبتاً غریب آبادی کے علاقے ’نیوکراچی‘ میں قائم ایک کلینک کی روح رواں عالیہ نے بتایا کہ، ’علاقے کی بیشتر خواتین غیر محفوظ طریقےسے اسقاط حمل کی خواہشمند ہوتی ہیں کیوں کہ ان کے شوہر یا تو مانع حمل گولیوں یا دوسرے طریقوں سے آگاہ نہیں ہوتے یا وہ کم علمی کے سبب جدید طریقے اپناتے ہوئے ڈرتے ہیں‘۔

’اُن کو سب سے بڑا خوف خود ساختہ سائیڈ ایفیکٹس کا ہوتا ہے۔ خواتین اگر اپنی مرضی سے کوئی طریقہ اپنانا بھی چاہیں تو مردوں اور دیگر اہل خانہ کے طرف سے انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں عالیہ نےبتایا کہ، ’مرد خود کبھی کلینک کا رخ نہیں کرتے۔ انہیں کلینک آنا اور مشاورت کرنا ’مردانگی کے خلاف‘ لگتا ہے۔ بعض کو لیڈی ڈاکٹر سے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ججھک محسوس ہوتی ہے، جبکہ مرد ڈاکٹرز سے بھی انہیں ’شرم ‘ آتی ہے۔‘

سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد اسقاط حمل

گزشتہ ہفتے کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج میں ہونے والے ایک سیمینار میں زچہ و بچہ کی ماہر ڈاکٹر پروفیسر سعدیہ احسن پال نے انکشاف کیا کہ، ’چونکہ پاکستانی معاشرے میں شادی سے قبل ڈاکٹر سے مشاورت کا کوئی رواج نہیں۔ پڑھے لکھے افراد بھی کسی قسم کی مشاورت لیتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ لہذا، پاکستان میں ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد اسقاط حمل کے کیسز سامنے آتے ہیں۔‘

ایک اور ماہر، ڈاکٹر شیریں بھٹہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباٌ 25 فیصد شادی شدہ خواتین فیملی پلاننگ کروانا چاہتی ہیں۔ لیکن، ڈاکٹروں کے پاس جانے سے گھبراتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے کئےجانے والے اسقاط حمل کے بہت سے کیسز میں ماں اور بچے دونوں کی جان کو خطرہ ہوتا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ تقریباٌ دو لاکھ خواتین کو اسقاط حمل کے دوران بہت زیادہ پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
XS
SM
MD
LG