رسائی کے لنکس

برطانیہ: انتہا پسندی سے حقیقی خطرے کا انتباہ

  • ہینری ریجویل

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

یہ وارننگ ایسے وقت میں دی گئی ہے جب پورے یورپ میں پھیلے ہوئے جہاد مخالف نیٹ ورک میں شامل گروپس ایسے لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کر رہے ہیں جنہیں آسانی سے اپنا ہم خیال بنایا جا سکتا ہے۔

برطانیہ نے انتباہ کیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی سے ملک کی سیکورٹی کے لیے حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ وارننگ ایسے وقت میں دی گئی ہے جب پورے یورپ میں پھیلے ہوئے جہاد مخالف نیٹ ورک میں شامل گروپس ایسے لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کر رہے ہیں جنہیں آسانی سے اپنا ہم خیال بنایا جا سکتا ہے۔

جولائی 2011 میں جب ناروے میں اینڈرز بریویک نے لوگوں کو اندھا دھند ہلاک کرنا شروع کیا، تو اس نے کہا کہ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ وہ ناروے اور یورپ کو اسلام کے غلبے سے بچا سکے۔

اس نے ایک سمر کیمپ کو نشانہ بنایا جسے ناروے کی لیبر پارٹی چلا رہی تھی۔ بریویک نے اس پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ ناروے میں مختلف ثقافتوں پر مبنی معاشرے کو فروغ دے رہی ہے۔ اس نے جن 77 افراد کو ہلاک کیا ان میں سے بیشتر کم عمر نوجوان تھے۔

اس حملے کے بعد جن ملکوں نے انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی کو اپنی انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی میں شامل کیا ان میں برطانیہ بھی شامل ہے۔

برطانیہ کے وزیر برائےکرائم اینڈ سیکورٹی جیمز بروکنشائر کہتے ہیں کہ آج کل حکومت انتہا پسندی کے جن کیسوں سے نمٹ رہی ہے ان میں سے ہر دس میں سے ایک کیس کا تعلق انتہائی دائیں بازو کے گروپوں سے ہے۔

‘‘یہ کوئی غیر اہم بات نہیں کہ حالیہ دنوں میں انگلینڈ میں ہتھیاروں کا جو سب سے بڑا ذخیر ہ پکڑا گیا وہ ایک بس ڈرائیور نے جمع کیا تھا جو اس نظریے پر کار بند تھا۔ 2010 میں دو افراد کو گھر میں تیار کیے ہوئے زہر کے استعمال سے دہشت گردی کے حملے کی تیاری کرنے کے الزام کا مجرم پایا گیا اور ایک اور شخص کو دہشت گردی کی مطبوعات تقسیم کرنے کے جرم میں قید کی سزا دی گئی۔’’

تفتیش کاروں نے پتہ چلایا کہ اینڈرز بریویک دائیں بازو کے کسی نیٹ ورک کا سرگرم رکن نہیں تھا لیکن وہ انٹرنیٹ پر اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والی اور قوم پرست سائٹس پر باقاعدگی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہتا تھا۔

لندن کے کنگز کالج میں انٹرنیشنل سینٹر فار دی سٹیڈی آف ریڈیکلائزیشن کے الیگزینڈر میلیاگور ہیچنز کہتے ہیں کہ ‘‘جب بریویک نے حملہ کیا، تو جہاد کے مخالف سرگرم لوگوں کی طرف سے اس حرکت کو نظر انداز کرنے یا اس کا جواز دینے کی کوشش کی گئی۔ در اصل یہ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ اگرچہ ہم سویلین آبادی پر اس قسم کے حملے کا دفاع نہیں کرتے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آپ ہماری با ت نہیں سنیں گے تو اس قسم کے حملے جاری رہیں گے۔’’

بریویک کے بارے میں یہ بات معلوم تھی کہ وہ اسلام مخالف انگلش ڈیفینس لیگ یا ای ڈی ایل کا مداح تھا۔ ای ڈی ایل نے پورے یورپ میں اس قسم کے اتحاد قائم رکھنے میں مدد دی ہے۔

گزشتہ سال اگست میں پورے یورپ کے انتہائی دائیں بازو کے سرگرم کارکن اسٹاک ہوم، سویڈین میں جمع ہوئے۔ ان میں ای ڈیل ایل کے بانی بھی موجود تھے، جو خود کو ٹامی رابنسن کہتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ‘‘ہمارا مقصد یہ ہے کہ نظریات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے، وسائل کو دستیاب کیا جائے اور اگلے بارہ مہینوں میں جس طرح بھی ہو، مل جل کر کام کیا جائے تاکہ سچائی کو نمایاں ہو اور بتایا جا سکے کہ اسلام در اصل کیا ہے۔’’

الیگزینڈر ہیچنز کہتے ہیں کہ جہاد مخالف تحریک بیسویں صدی کے انتہائی دائیں بازو کے گروپوں سے مختلف ہے کیوں کہ اس تحریک کی تمام تر توجہ اسلام پر ہے۔

‘‘یہ تحریک یقیناً نائن الیوین کے حملوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ تاہم اس میں دوسرے عناصر کا بھی دخل ہے جیسے یورپ میں بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی۔’’

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ جن انتہائی دائیں بازو کے عناصر کے کیسوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے وہ ایسے گروپس اور افراد ہیں جنھوں نے از خود یہ تحریک شروع کی ہے۔

اس بارے میں جیمز بروکینشائر کہتے ہیں ‘‘انتہائی دائیں بازو کا یہ خطرہ اتنا پھیلا ہوا یا منظم نہیں ہے جتنا القاعدہ کے زیرِ اثر خطرہ ہے۔ اور کارروائیاں کرنے کے لحاظ سے، دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ لیکن ہم نے یہ بات بھی نوٹ کی ہے کہ بنیادی طور سے انتہائی دائیں بازو کی تحریک ان لوگوں کے لیے پر کشش ہے جن میں بہت سی وہی کمزوریاں مشترک ہیں جن سے القاعدہ سے تحریک حاصل کرنے والی انتہا پسند ی جوش و جذبہ حاصل کرتی ہے۔’’

جیمز بروکینشائر کہتے ہیں کہ ان کمزوریوں میں دوسروں سے الگ تھلگ ہو جانے کی کیفیت اور اپنی شناخت کے بارے میں سوالات شامل ہیں، یعنی ایسے مسائل جن کے بارے میں غیر یقینی اقتصادی کیفیت کے اس دور میں پورے یورپ میں بحث جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG