رسائی کے لنکس

بچوں میں صحت بخش خوراک کا شعور پیدا کرنے کا پروگرام

  • جون سو
  • رضا نقوی

بچوں میں صحت بخش خوراک کا شعور پیدا کرنے کا پروگرام

بچوں میں صحت بخش خوراک کا شعور پیدا کرنے کا پروگرام

بیماریوں کی روک تھام اور ان سے بچاؤ کے امریکی ادارے کے مطابق گزشتہ تیس برسوں کے دوران امریکی بچوں کے وزن میں اضافے کی شرح تین گنا بڑھ گئی ہے ۔ اور اب چھ سے نو سال کی عمر کا ہر پانچویں امریکی بچے کا وزن نارمل سے زیادہ ہے۔ اس مسئلے پر قابوپانے کے لیے یہاں بہت سے اسکول بچوں کوصحت بخش خوراک کی فراہمی پر خاص توجہ دے رہے ہیں ۔

یہ واشنگٹن میں واقع ای ڈبلیو سٹاکز پبلک اسکول کی تیسری جماعت کی ریاضی کی کلاس ہے ۔ آٹھ اور نو سال کے طالب علم چیزوں کے جوڑ بنانا سیکھ رہے ہیں ۔ یہ ان طلبہ کو پڑھایا جانے والا ریاضی کا ایک بنیادی اصول ہے ۔ حانا چن ایک استاد ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ حال ہی میں ہم نے مختلف قسم کے جوڑ بنانے کے لیئے کھانے کی دلچسپ چیزوں کا استعمال شروع کیا ہے جیسے پیزا کی سجاوٹ کے لئے بچے دو مختلف ٹاپنگز منتخب کر کے لائے تھے ۔

حانا چن کہتی ہیں کہ اس سال ان کے سکول نے تیسری کلاس کے ریاضی اور انگلش کے نصاب میں غذا سے متعلق موضوعات کو شامل کرنے کے لیے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا ہے۔ ماحول کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے سیڈنگ پراجیکسٹ کی مدد سے تیار کیے جانے والے اس پروگرام کا نام فارم ٹو ڈیسک ہے ۔

اس پروگرام کا ایک مقصد بچوں میں موٹاپے کے مسئلے سے نمٹنا ہے ۔ ہمارے پروگرام کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ اگر بچوں کو سکول میں بار بار صحت مند غذا کے بارے میں اچھی باتیں بتائی جائیں تو اس سے دور رس تبدیلی کا سب سے زیادہ امکان ہے ۔

نیلی کی اس رائے کو یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا کی ایک حالیہ تحقیق سے مزید تقویت ملی ہے ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ جتنا زیادہ بچوں کو صحت مند غذا سے روشناس کروایا جائے گا یہ امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا کہ وہ صحت مند خوراک کھانے کا فیصلہ کریں ۔

فارم ٹو ڈیسک نامی پروگرام کے تین حصے ہیں ۔ ایک نصابی حصہ جس میں ٹیچرز غذائی مثالوں کو کلاسز میں استعمال کرتی ہیں ، دوسرا پودے اگانا اور تیسرا کیفے ٹیریا ، جہاں غذائیت سے بھرپور کھانے تیار ہوتے ہیں ۔

ماکیشا ڈے سکول میں طلباء کے لئے کھانا پکاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں ہم ہر چیز خود بناتے ہیں ۔ بچوں کو بالکل گھر جیسا کھانا ملتا ہے ۔ اور جنہیں گھر پر ایسا صحت بخش کھانا نہیں ملتا ، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انہیں یہاں ضرور ملے ۔

ان کاکہناہے کہ سکول زیادہ تر غذائی اجزا مقامی فارمز سے خریدتا ہے لیکن کچھ تازہ چیزیں سکول کے باغ سے بھی لی جاتی ہے جس کی دیکھ بھال طلبہ کرتے ہیں ۔

حانا کہتی ہیں کہ اس کا بہت اچھا اثر ہوتا ہے ۔ جیسے جب وہ لنچ کے لیے جاتے ہیں تو ہمیشہ صحت بخش چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ سکول کے کھانے میں سلاد بھی مہیا کیا جاتا ہے ، جو بچے شوق سے کھاتے ہیں اور پھل اور سبزیاں پسند کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی آئی ہے

حانا چن کا کہناہے کہ اب بچے کھانوں میں شکر اور چربی کی مقدار کا اندازہ کرنے کے لیئے ان کے پیکٹوں پر چھپی ہوئی غذائی معلومات کے لیبل بھی پڑھتے ہیں ۔ ان کے مطابق تیسری کلاس کے بچوں کے لیے فارم ٹو ڈیسک پروگرام بہت کامیاب رہا ہے اور ان کا سکول اب اسے دوسری کلاسز تک بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG