رسائی کے لنکس

ماحولیاتی آلودگی کا گولڈ مین ایوار ڈ حاصل کرنے والی دیہی خاتون لین ہیننگّ


لین ہیننگّ اپنے فارم میں ایک آلے کے ذریعے پانی کی آلودگی کا اندازہ لگا رہی ہیٕ

لین ہیننگّ اپنے فارم میں ایک آلے کے ذریعے پانی کی آلودگی کا اندازہ لگا رہی ہیٕ

لین ہیننگ ، مشی گن کے ایک گاؤں میں اپنے گھر کے قریب واقع مویشیوں کے بڑے بڑے فارموں سے آلودہ پانی کے نمونے اکھٹے کرتی ہیں ، لیکن وہ یہ کام کسی ادارے کے لیے نہیں کرتیں اور انہیں اس کام کا کوئی معاوضہ بھی نہیں ملتا۔

وہ کہتی ہیں کہ میں نے کبھی کیمسٹری نہیں پڑھی ۔ میں تو ایک دیہاتی عورت ہوں۔

ہرننگ اور ان کے شوہر، اپنے 120 ہیکٹر پر پھیلے ہوئے فارم پر مکئی اور سویا بین کاشت کرتے ہیں۔لیکن ان کے گھر سے صرف 16 کلومیٹر کے فاصلے پر مویشیوں کا ایک فارم ہے جہاں ایک محدود جگہ میں ہزاروں کی تعداد میں گائیں اورسور رکھے جاتے ہیں۔

امریکہ میں زیادہ تر دودھ، گائے ،سور اور مرغی کا گوشت ان بڑے بڑے فارموں سے آتا ہے جہاں ہزاروں جانوروں کو بند باڑوں میں رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ فارم غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں کافی مدد دیتے ہیں،لیکن ان کی وجہ سے ماحول کی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

کافو کہلائے جانے والے درمیانے سائز کے ہر باڑے میں سینکڑوں جانور رکھے جاتے ہیں جو اتنا فضلہ پیدا کرتے ہیں جتنا ایک چھوٹے شہر کے ہزاروں لوگ۔

لیکن شہروں کے نکاسی آب کے نظام کے برعکس ، یہ فضلہ وہیں پر ڈھیروں کی شکل میں پڑا رہتا ہے اور پھر اسے اسی حالت میں کھیتوں میں کھاد کے طورپر پھیلا دیا جاتا ہے۔ ہرننگ کہتی ہیں کہ یہ فضلہ فضا میں ناقابل برداشت بدبو پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔

وہ کہتی ہے یہ بدبو اتنی شدید ہوتی ہے کہ آپ اپنے کپٹرے سکھانے کے لیے اپنے آنگن میں نہیں پھیلا سکتے۔ چاروں طرف مکھیوں کی بھرمار ہوتی ۔ جابجا چوہے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ آپ اپنے گھر کی کھڑکیاں تک نہیں کھول سکتے۔

یہ فضلہ جب ندی نالوں میں بہہ کر چلا جاتا ہے تو پانی کو بھی آلودہ کردیتا ہے۔

2000ء میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیاتھا ۔کسی شخص نے ریاستی عہدے داروں کو یہ شکایت کی تھی کہ ان میں سے ایک باڑے کی گندگی نے ندی کے پانی کو آلودہ کردیا ہے۔باڑے والوں نے الزام لگایا کہ یہ شکایت ہیننگ نے کی تھی۔

ہیننگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت وہ شکایت لے کر عہدےد اروں کے پاس نہیں گئیں تھیں ، لیکن اس واقعہ کے بعد انہیں حقیقت جاننے میں دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے اس بارے میں کچھ تحقیق کی۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم نے چھان بین شروع کی اور پانی کے کچھ نمونے اکھٹے کیے تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہمیں ایک سنگین مسئلے کا سامنا ہوچکاہے۔

ہیننگ کہتی ہیں کہ ریاستی اور وفاقی اداروں کے پاس ان باڑوں کی نگرانی کے لیے فنڈز نہیں ہوتے۔ اس لیے انہوں نے نگرانی کا طریقہ خود سے ہی سیکھا۔ ماحولیات کی ایک تنظیم سیرا کلب کے مشی گن چیپٹر کے ساتھ کام کرتے ہوئے اب وہ ریاستی عہدے داروں کو دو سو کلومیٹر دائرے کے علاقے کے بارے میں ہفتے میں کئی بار معلومات فراہم کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اب ہم ہی اپنی کمیونٹی کی آنکھیں اور ان کے کان بن چکے ہیں۔ اور ہم ماہرین اور عہدے داروں کو مستند معلومات اور سائنسی اعدادوشمار فراہم کرکے ان کی کاکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔

ہیننگ کے کام کے نتیجے میں ریاستی عہدے داروں نے ان باڑوں کے خلاف سینکڑوں بار قانونی کارروائی کی ہے۔ جس کی وجہ سے باڑوں کے مالکان انہیں ہراساں کرنے لگے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم جہاں کہیں جاتے ہیں ، ہمارا پیچھا کیا جاتا ہے، میرے میل باکس پر، میری کار پر ، میرے پورچ میں مردہ جانور پھینکے گئے۔ ہمیں اپنا میل باکس ضائع کرنا پڑا۔اور حال ہی میں میری دو سالہ پوتی کے کمرے کی کھڑکی پر فائرنگ کی گئی۔

لیکن ہیننگ کی کوششیں رنگ لائی ہیں۔ انہیں حال ہی میں ماحولیات کے لیے نچلی سطح پر کام کرنےکے سلسلے کا دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ’ گولڈ مین پرائز‘ سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ان فلاحی اداروں کو دے دی ہے جو اپنی کمیونیٹز میں مویشیوں کے فضلوں سے پیدا ہونے والی آلودگی پر نظر رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG