رسائی کے لنکس

پسند کی شادی آج بھی پاکستانی معاشرے کے ایک بڑے حصے کے لیے ’کلنک‘ کا ایک ایسا ٹیکہ ہے جس کے دھبے محض اس عورت کے خون سے ہی دھل سکتے ہیں، جو اس ’جرم‘ کا ارتکاب کر بیٹھی ہو۔۔۔۔ اور فرزانہ پروین سے یہی جرم سرزد ہوا تھا۔

پنجاب میں جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والی فرزانہ پروین نے لاہور ہائی کورٹ سے کچھ ہی فاصلے پر سر پر اینٹوں کے وار، جسم پر لگے خون کے دھبوں، زخموں سے اٹھتی ناقابل ِ بیان ٹیسوں اور جسم کا ساتھ چھوڑتی روح کے درمیان کہیں نہ کہیں’غیرت‘ کے لفظ پرغور تو ضرور کیا ہوگا۔ وہی ’غیرت‘ جس کی بنیاد پر فرزانہ کو اس کے خاندان کے مردوں کے ہاتھوں جان کی بازی گنوانا پڑی۔۔۔

حالانکہ غیرت کے نام پر قتل نہ تو حاملہ خاتون فرزانہ پروین کے لیے باعث ِ تعجب ہونا چاہیئے تھا اور نہ ہی پاکستانی قوم کے لیے، جہاں ہر سال سینکٹروں خواتین کو خاندان کی ’ناک کاٹنے‘ کے ’جرم‘ پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور معاشرہ ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا ہے۔۔۔

انٹرنیٹ پر دستیاب مختلف میڈیا رپورٹس، این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آج بھی پاکستان جیسے معاشرے میں ایک عورت کا سب سے بڑا قصور پسند کی شادی کرنا ٹھہرا ہے۔ پسند کی شادی آج بھی معاشرے کے چند عناصر کے لیے ’کلنک‘ کا ایک ایسا ٹیکہ ہے جس کے دھبے محض اس عورت کے خون سے ہی دھل سکتے ہیں، جو اس ’جرم‘ کا ارتکاب کر بیٹھی ہو۔۔۔۔ اور فرزانہ پروین سے یہی جرم سرزد ہوا تھا۔

معروف سماجی کارکن فوزیہ سعید اس نوعیت کے بہیمانہ فعل کے لیے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی اصطلاح استعمال کرنا ایک غلطی قرار دیتی ہیں۔

فوزیہ سعید کے الفاظ، ’میں سمجھتی ہوں کہ قتل قتل ہوتا ہے اور اس کو ہم غیرت غیرت کرکے نام کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ تو ہم ایک طرح کا راستہ چھوڑتے ہیں اس کے بھاگنے کا۔ یا ہم ایک اس کو قانونی شکل دے دیتے ہیں کہ جیسے جوش میں آکر اگر قتل ہو ہی گیا ہے تو چلو کوئی بات نہیں۔ تبھی ہم اس کو قتل نہیں سمجھتے اس کو ہم آنر کلنگ کہتے ہیں‘۔

پاکستان میں 2004ء میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی روک تھام کے لیے ایک قانون تشکیل دیا گیا تھا جسے ’کرمنل لاٰ ایکٹ 2004ء‘ کا نام دیا گیا۔ عموماً اسے honor killing act بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ مگر کیا پاکستان میں اس قانون کی عملاً بھی کوئی حیثیت ہے اور کیا اس قانون کے تحت کبھی ملزمان کو کیفر ِکردار تک بھی پہنچایا جا سکا ہے؟

فوزیہ سعید کہتی ہیں کہ، ’اس قانون کا نفاذ بہت مشکل ہے کیونکہ یہ بہت ہلکا قانون ہے۔ جب یہ قانون بن رہا تھا تو اس پر اعتراضات اتنے زیادہ تھے کہ جس شکل میں یہ پاس ہوا وہ ہمارے کسی کام کا نہیں رہا‘۔

عورت فاؤنڈیشن میں لاء اینڈ جینڈر مینیجر اور پاکستان میں خواتین کے حوالے سے تحقیق میں اپنی پہچان بنانے کے لیے مشہور ملیحہ ضیاء لاری کہتی ہیں کہ کرمنل لاء ایکٹ 2004ء میں موجود سُقم کے ساتھ ساتھ ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ نہ صرف معاشرے میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے خلاف کوئی موثر آواز اٹھتی نہیں دکھائی دیتی بلکہ ان کیسز کی سماعت کرنے والے جج حضرات بھی اکثر جانبداری سے کام لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

ملیحہ ضیاء لاری کے الفاظ، ’ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ججز کا جھکاؤ نظر آ جاتا ہے۔ بعض جج یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی بندہ اگر اپنی بہن کو قابل ِاعتراض حالت میں دیکھے تو اس کا خون کھول جائے گا اور پھر یہی ری ایکشن ہوگا۔ لیکن کچھ کیسز ہیں جیسا کہ کراچی ہائی کورٹ کی کچھ بہت اچھے فیصلے ہیں جیسا کہ انہوں نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کوئی بہانہ نہیں ہوتا۔ اور انہیں پوری سزا ملنی چاہیئے۔ لیکن باقی کورٹس میں بھی مثالیں ہیں جہاں یا تو سزا کم کر دی جاتی ہے یا پھر سرے سے ہی سزا نہیں دی جاتی‘۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی گھُتی سلجھانا بظاہر ایک ناقابل ِ یقین سا عمل بن چکا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے اور کیوں ایک قانون کے ہوتے ہوئے بھی اس شخص کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا جو ایک عورت کو بے دردی سے ختم کرکے اپنے اس فعل پر بظاہر حق بجانب دکھائی دیتا ہے۔

فوزیہ سعید کہتی ہیں کہ اس جرم کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ کسی انسان کی بجائے اسے ریاست کے خلاف جرم قرار دیا جائے، ’ میری تو یہ دلیل ہے کہ اگر کوئی ولی معافی دے سکتا ہے تو ہم اپنی سٹیٹ کو اپنا ولی بناتے ہیں۔ اگر ریاست نے معافی دینی ہے تو دے مگر ریاست نے معافی نہیں دینی۔ دیکھئیے انفرادی سطح پر کسی پر اتنا بوجھ ڈالنا صحیح بات نہیں ہے‘۔

ملیحہ ضیاء لاری بھی کہتی ہیں کہ قاتل کو جب تک اس فعل کی سنگینی کا احساس نہیں ہوگا، جب تک اسے یہ نہیں پتہ ہوگا کہ قانون اس کی گردن تک پہنچ سکتا ہے، پاکستان میں خواتین غیرت کے نام پر بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔

ملیحہ ضیاء نے 2010ء میں پاکستان کے چار ڈسٹرکٹس میں اسی حوالے سے کی گئی اپنی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’میں نے 2010ء میں ایک تحقیق کی تھی جس میں ہم نے پورے ملک سے چار ڈسٹرکٹس کا ڈیٹا اکٹھا کیا تھا اور ہم نے قاتلوں سے بھی بات کی تھی۔ اور وہ کہتے ہیں کہ قانون کیا کر لے گا؟ قانون تو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ ہمیں کیا ڈر ہےِ؟ ہمیں تو شاید سزا بھی نہیں ملے گی اور اگر ملے گی تو بہت کم ملے گی۔ اور تفتیش کون کرے گا؟ تفتیش تو ٹھیک طرح نہیں ہوتی، ہم پیسے دے دیں گے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے‘۔

لاہور ہائی کورٹ کے قریبی علاقے میں پیش آنے والے فرزانہ پروین کے قتل کے افسوسناک واقعے سے متعلق گذشتہ روز ڈی آئی جی پولیس لاہور رانا جبار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ پولیس پوری سنجیدگی سے اس کیس پر کام کر رہی ہے۔

رانا جبار کا کہنا تھا کہ، ’وزیر ِاعظم اور وزیر ِاعلیٰ پنجاب کی طرف سے بھی واضح ہدایات آ چکی ہیں اور ہماری اپنی بھی اس میں پوری کاوش موجود ہے۔ اور کے لیے ٹیمز بنائی جا چکی ہیں جنہیں سینئیر آفیسرز لیڈ کر رہے ہیں۔ اور وہ ریڈز کر رہی ہیں اور ملزمان ان شاء اللہ ایک دو روز تک گرفتار ہوں گے اور انہیں پراسیکیوٹ کرایا جائے گا‘۔

میڈیا پر آنے والی رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لاہور میں پسند کی شادی کرنے پر خاتون کے قتل کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔ جبکہ میڈیا پر آنے والی دیگر رپورٹس کے مطابق اس کیس میں اب تک چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن کا تعلق مقتولہ کے خاندان سے بتایا جا رہا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2012 کے مطابق پاکستان میں 913 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز میں شائع ایک رپورٹ، پاکستان کے ہیومن رائیٹس گروپوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتی ہے کہ سال 2013ء میں پاکستان میں 900 سے زائد خواتین غیرت کی بھینٹ چڑھائی گئیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان سے اس سفاک جرم کے خاتمے کے لیے قانون کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ مجرموں کو کیفر ِ کردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ چند ماہرین کے نزدیک ’غیرت کے نام پر قتل‘ اور اس بارے میں معاشرتی بے حسی کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا بھی ناگزیر بنتا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ کی مزید تفصیلات کے لیے نیچے دئیے گئے آڈیو لنک پر کلک کیجیئے۔
XS
SM
MD
LG