رسائی کے لنکس

فاٹا میں آزاد میڈیا کے بغیر سیاسی اصلاحات بے معنی


جنوبی وزیرستان کا ایک گاؤں

جنوبی وزیرستان کا ایک گاؤں

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں رائج قوانین میں حال ہی میں ترمیم کرنے کے بعد وہاں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جا چکی ہے جو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے کیونکہ اُن کے خیال میں سیاسی ڈھانچے کو فروغ دیے بغیران پسماندہ علاقوں میں دیرپا سماجی و اقتصادی ترقی کا حصول اور شدت پسند رجحانات کی حوصلہ شکنی ممکن نہیں۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی اصلاحات پر موثر انداز میں عمل درآمد اور قبائلیوں میں جمہوری عمل کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے فاٹا میں آزاد میڈیا کا فروغ بھی ناگزیر ہے کیونکہ ان کے بقول طویل عرصے سے ایف سی آر کے غیر جمہوری نظام کے تحت زندگی گزارنے والوں کو انتخابات میں بہتر اُمیدوار کا چناؤ کرنے کے لیے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے ہی ممکن ہے۔

قبائلی علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں اور ان کے خلاف پاکستانی فوج کےآپریشن کے باعث فاٹا کے اکثر علاقے صحافتی سرگرمیوں کے لیے غیر محفوظ سمجھے جاتے ہیں جبکہ بعض ایجنسیوں میں مقامی صحافیوں کو بھی کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان حالات میں وہاں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں کتنی آزاد اور موثر ہوں گی اس بارے میں مبصرین کو تحفظات ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم انٹر میڈیا ان دنوں پاکستانی شہروں میں خصوصی مذاکروں کا انعقاد کرا رہی ہے جن کا مقصد فاٹا کے قبائلی علاقوں میں آزاد میڈیا کے فروغ کے لیے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہے تاکہ وہاں سیاسی اصلاحات پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہو سکے۔

اس تنظیم کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر عدنان رحمت کہتے ہیں کہ فاٹا کی آبادی لگ بھگ 55 لاکھ ہے لیکن وہاں اس وقت صرف تین ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز ہیں اور وہ بھی سرکاری کنٹرول میں کام کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کے قواعد و ضوابط کے لیے قائم اتھارٹی’’پیمرا‘‘ کو اپنا دائرہ کار فاٹا تک بھی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں نجی کمپنیوں کو ایف ایم ریڈیو اسٹیشن اور دیگر ایسے صحافتی ادارے قائم کرنے کی اجازت مل سکے۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر اور فاٹا کے امور کے ماہر ایاز وزیر کہتے ہیں کہ غربت جہالت اور بے روزگاری ہی دراصل قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے فروغ کی بڑی وجوہات ہیں کیوں کہ بے روزگار قبائلی نوجوانوں کو ان حالات میں اپنی جانب راغب کرنا طالبان شدت پسندوں کے لیے آسان ہے۔

قبائلی علاقوں کا انتظام چلانے کے لیے برطانوی راج میں 1901ء میں فرنیئٹر کرائم ریگولیشن کے نام سے ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت پولیٹکل ایجنٹ انتہائی با اختیار تھا اور اس کے فیصلوں کے خلاف قبائلی عوام کو اپیل کا حق بھی حاصل نہیں تھا۔

ایف سی آر میں ترمیم کے بعد قبائلی عوام پولیٹیکل ایجنٹ کے فیصلے کے خلاف گورنر خیبر پختون خواہ کی نامزد کردہ اپیلٹ اتھارٹی کے سامنے اپیل کر سکیں گے۔ ترمیمی آرڈر کے تحت بچوں ، خواتین اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو کسی جرم کی اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔ ملزمان کو ضمانت کا حق حاصل ہوگا اور اگر دیوانی یا فوجداری مقدمات میں کسی کو غلطی سے سزا دے دی گئی تو اُسے زرتلافی یا ہرجانہ بھی ادا کیا جائے گا۔

ایف سی آر کے ترمیمی قانون کے تحت آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو یہ حق دیا گیا ہے کہ پولیٹیکل ایجنٹ اپنی صوابدید پر جو بھی سرکاری فنڈز استعمال کرے اُن کا آڈٹ کیا جائے۔

فاٹا کی سات قبائلی ایجنسیوں میں قومی اسمبلی کے 12 انتخابی حلقے ہیں جہاں سے آزاد حیثیت میں نمائندے منتخب ہوئے ہیں تاہم ایف سی آر میں ترمیم کے بعد سیاسی جماعتیں اپنے امیدوار میدان میں اتار سکیں گی۔

XS
SM
MD
LG