رسائی کے لنکس

قبائلی عوام کے آئینی حقوق، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

  • شہناز نفيس

فائل

فائل

بتایا جاتا ہے کہ اِس وقت فاٹا کے عوام کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ فوجی آپریشن کے بعد اُن کے گھروں کو واپس بھیجا جائے؛ اُن کے علاقوں کی تعمیرِ نو کی جائے اور اُن کے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے

وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ، سرتاج عزیز نے فاٹا اصلاحات سے متعلق حکومتی کمیٹی کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی، جس میں قبائلی عوام کو اُن کے آئینی حقوق دینے، اُن کو پاکستان کے باقی علاقوں کے لوگوں کے برابر لانے اور فاٹا کو صوبہٴ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اِس موقعے پر، سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ نے ایف آئی آر کے کالے قوانین کو ختم کرنے اور اس کی جگہ ’رواج ایکٹ‘ نافذ کرنے کی سفارش کی۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ اس وقت فاٹا کے عوام کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ فوجی آپریشن کے بعد اُن کے گھروں کو واپس بھیجا جائے؛ اُن کے علاقوں کی تعمیرِ نو کی جائے اور اُن کے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے سے پہلے وہاں پر 500 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

فاٹا سے قومی اسمبلی کے رُکن، حاجی شاہ جی گل نے رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم نہیں کیا جاتا، تب تک فاٹا کے انتظامی اختیارات وہاں کے نمائندوں کے سپرد کیے جائیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور نے بھی حکومت کی جانب سے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے عمل کو 2017ء سے پہلے مکمل کیا جائے اور 2018ء کے الیکشن میں فاٹا کے عوام کو ووٹ دینے کا حق دیا جائے۔

تفصیل سننے کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG