رسائی کے لنکس

حماس - الفتح معاہدہ، مستقبل کیا ہوگا؟

  • آندرے نیسنیرا

حماس - الفتح معاہدہ، مستقبل کیا ہوگا؟

حماس - الفتح معاہدہ، مستقبل کیا ہوگا؟

متحارب فلسطینی دھڑوں الفتح اور حماس کے درمیان رواں ماہ کے اوائل میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی ٹائمنگ کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول ایک ایسے وقت میں جب عرب دنیا سیاسی حکمرانی کے ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے، فلسطینی گروپوں کا اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے پر اتفاق خاصا معنی خیز ہے۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے بعد برسرِ اقتدار آنے والی انتظامیہ کی ثالثی سے قاہرہ میں طے پانے والے اس معاہدہ پر الفتح کے رہنما اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور حماس کے سربراہ خالد مشعل نے دستخط کیےتھے۔

معاہدے کی رو سے دونوں فریق باہمی محاذ آرائی ترک کرنے اور ایک عارضی قومی حکومت کے قیام پر متفق ہوگئے ہیں جو ایک برس کے اندر اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرائے گی۔

لندن اسکول آف اکنامکس سے منسلک مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر فواذ جرجیس الفتح اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا تعلق عرب دنیا کی حالیہ سیاسی بیداری سے جوڑتے ہیں۔

فواذ کہتے ہیں کہ آس پاس کے ممالک میں عوامی مزاحمت سے جنم لینے والی سیاسی تبدیلیوں کے زیرِاثر فلسطینی قیادت بھی اپنے عوام کے دباؤ کا شکار ہورہی تھی۔ اُن کے بقول فلسطینی اِس وقت ایک متحد قیادت کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ حماس اور الفتح اپنے اپنے نظریاتی اختلافات پسِ پشت ڈالتے ہوئے فلسطین کے قومی مفاد کے حصول کیلیے متحد ہوکر جدوجہد کریں۔

تاہم نیویارک یونیورسٹی سے وابستہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات کے ماہر ایلون بن میر سمجھتے ہیں کہ حالیہ فلسطینی معاہدے پر اتفاقِ رائے میں حماس کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جسے، ان کے بقول، اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ عرب دنیا کی حالیہ احتجاجی سیاسی تحریک کےنتیجے میں خطے میں اسلامی نظریات کمزور پڑ رہے ہیں۔

بن میر کے بقول "مشرقِ وسطیٰ کے عرب نوجوان اسلام کو بطورِ طریقِ زندگی اپنانے کا کائی مطالبہ نہیں کر رہے۔ حالیہ سیاسی تحریک کے دوران ان کی جانب سے "مرگ بر اسرائیل" اور "مرگ بر امریکہ" جیسے نعرے بھی بلند نہیں کیے گئے۔ اس کے برعکس یہ نوجوان آزادی، جمہوریت، معاشی ترقی اورانسانوں کی طرح معقول اور باعزت زندگی گزارنے کے مواقعوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کا یہی وہ پیغام ہے جسے حماس نے بروقت سمجھا ہے اور اس تنظیم کو اپنے رویے میں تبدیلی لانے پر مجبور کیا ہے"۔

تاہم فواذ جرجیس کے نزدیک حماس اور الفتح کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی ایک اور بنیادی وجہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے اس امن مذاکراتی عمل کی مسلسل ناکامی ہے جس کے نتیجے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی امید کی جارہی تھی۔

فواذ کہتے ہیں کہ امریکی سفارت کاری پہ انحصار کرکے فلسطینی صدر محمود عباس عام فلسطینی عوام کی نظر میں اپنی ساکھ اور حقِ حاکمیت کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے بقول فلسطینی گروہوں کا ایک ایسے مفاہمتی معاہدے پر متفق ہونا نہ صرف امریکی سفارت کاری کی ناکامی کا مظہر ہے بلکہ یہ محمود عباس انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کو ان کے حقوق کی فراہمی میں ناکامی کا بھی اعتراف ہے۔

فواذ کے بقول یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ جس کے باعث محمود عباس اپنے پیدا کردہ بگاڑ کو درست کرنے اور فلسطینی گروپوں اور دھڑوں سے مفاہمت کیلیے سرگرم ہوئے ہیں۔

ایلون بن میر کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلیے ماہِ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی رائے شماری کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بن میر کے بقول فلسطینی حکام گزشتہ چھ، آٹھ ماہ سے ملکوں ملکوں جا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلیے عالمی برادری کی حمایت کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 130 ممالک 1967ء کی حدبندیوں کے مطابق تشکیل دی جانے والی ایک ایسی مجوزہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کراچکےہیں جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا اور جہاں تارکِ وطن فلسطینیوں کو اپنے علاقوں میں واپسی کا حق حاصل ہوگا۔

بن میر کے بقول یہ فلسطینیوں کیلیے ایک بہت بڑی پیش رفت ہے جسے حقیقت میں بدلنے کیلیے آنے والے دنوں میں انہیں عالمی سطح پر مذاکرات کرنا ہونگے۔ اور ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ حماس یا الفتح کے علیحدہ علیحدہ پلیٹ فارمز سے کرنے کے بجائے یہ بات فلسطینیوں کے حق میں جائے گی کہ ان کی تاریخ کے اس اہم ترین موڑ پر ان کی نمائندگی ایک متفقہ قومی حکومت کررہی ہو۔

بن میر کو توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مجوزہ قرارداد منظور کرلے گی۔ تاہم ان کے بقول عالمی تنظیم کی جانب سے یہ محض ایک علامتی عمل ہوگا اور اس قرارداد کی پابندی کسی فریق کیلیے لازم نہیں ہوگی۔

بن میر کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے اتحاد کا اصل امتحان اس قراداد کی منظوری کے بعد شروع ہوگا جب اسرائیل اور امریکہ اس ضمن میں ان سے تعاون سے انکار کردینگے۔ ان کے بقول "پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ اس صورت میں فلسطینی اس قرارداد سے کیا حاصل کرسکیں گے؟ کیا وہ دوبارہ تشدد کی طرف لوٹ جائینگے؟ اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو پھر کیا ہوگا؟ ان تمام سوالوں کے جواب آنے والا وقت دے گا"۔

XS
SM
MD
LG