رسائی کے لنکس

ڈاکٹر آفریدی کے معاملے کو ’’حل کرنے‘‘ پر تیار ہیں: فاطمی


Tariq Fatemi Advisor to Prime Minister on Foreign Affairs

تاہم، طارق فاطمی نے کہا ہے کہ ’’پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے، جس کی عدالتیں قطعی آزاد ہیں، جو انتظامیہ کے زیر تحت کام نہیں کرتیں، اور ایسی کوئی شق موجود نہیں، جس کے تحت انتظامیہ عدالتوں کے کام میں دخل دے سکے‘‘

محمد عاطف/انجم ہیرلڈ گِل

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیرِ خصوصی برائے امور خارجہ، طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے کو ’’حل کرنے اور آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کرنے پر تیار ہے‘‘۔

’وائس آف امیریکہ‘ کی اردو سرس سے بات کرتے ہوئے، مشیر خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوانین کے مطابق ڈاکٹر آفریدی پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور پاکستانی علاقے میں جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد ہے۔

بقول اُن کے، ’’ڈاکٹر آفریدی نے پاکستان میں صحتِ عامہ سے متعلق پروگراموں اور ویکسین پروگرام کو نقصان پہنچایا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ عالمی ادارہٴ صحت اُن کی سرگرمیوں پر سخت پریشان تھا، ’’چونکہ اس سے ویکسین پروگرام کو سخت دھچکا پہنچا‘‘۔

طارق فاطمی نے کہا کہ ’’اُن سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، اور یہ معاملہ عدالتوں کے سامنے ہے۔ یہ ایک سیدھا سا سوال ہے کہ ایک پاکستانی شہری نے پاکستانی سرزمین پر جرائم کا ارتکاب کیا، اور پھر اسی سرزمین پر عدالتوں کا سامنا کیا‘‘۔ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے، جس کی عدالتیں قطعی آزاد ہیں، اور وہ انتظامیہ کے زیر تحت کام نہیں کرتی ہیں، اور ایسی کوئی شق موجود نہیں، جس کے تحت انتظامیہ عدالتوں کے کام میں دخل دے سکے۔ اس لئے ہم اپنے اِداروں کو ملک کے قواعد و ضوابط کے تحت کام کرنے دیں گے۔

اس سوال پر کہ کیا صدرِ پاکستان کے پاس یہ اختیارات موجود ہیں کہ وہ کسی مجرم کی سزا معاف کر سکے اور کیا آپ کے نزدیک پاکستانی صدر یہ اختیار استعمال کریں گے، اُنھوں نے بتایا کہ ’’یہ سب صرف اُسی وقت ممکن ہوگا جب عدالتی کاروائی اختتام کو پہنچے گی، اور یہ سزا معاف کرنے کا اختیار، امریکی صدر کے پاس بھی موجود ہے، جسے وہ استعمال کرتے ہیں، اور اکثر سربراہوں کے پاس ایسے اختیارات موجود ہوتے ہیں۔‘‘

اُنہوں نے کہا کہ پہلے عدالت اپنی کاروائی مکمل کرے گی اور پھر عدالت ہی یہ فیصلہ کرے گی آیا اس معاملے کو صدر کے سامنے بھیجا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اس اختیار کا استعمال کریں۔

بعدازاں، پاکستانی صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران، پوچھے گئے ایک سوال پر، مشیر خصوصی کا کہنا تھا کہ ’’انسداد دہشت گردی کیلئے چلائی جانے والی مہم میں اس بات کا تعین پاکستان کرے گا کہ کب، کہاں اور کس دہشت گرد گروپ کو پہلے نشانہ بنانا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ کیا امریکہ دہشت گردی کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی کامیابی میں دلچسپی رکھتا ہے یا اس کی حکمتِ عملی پر؟ انہوں نے بتایا کہ ’’ہم کس شہر میں کس وقت گئے ہیں، کس علاقے میں کب گئے ہیں، کس دہشت گرد گروپ کو پہلے فوکس کیا ہے، اس کی تفصیلات آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ اس کی تفصیلات ہم اپنے ماہرین پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اِسی طرح سے امریکہ کو ہمیں نہیں بتانا چاہئیے۔۔۔‘‘

طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ امریکہ میں اُن کا 10 روزہ دورہ ’’کامیاب رہا‘‘۔ دورے کی مبینہ ناکامی کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اُن کی امریکہ میں ملاقاتیں طے نہیں تھیں۔ ’’اس لئے، ان کی ملاقات نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتقالِ اقتدار سے متعلق ٹیم کے ارکان سے نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مناسب وقت نہیں تھا چونکہ اگر وہ ہمیں وقت دیتے تو پھر دوسرے لوگ بھی وقت مانگتے اور یہ سلسلہ چل نکلتا، جو ٹرمپ ٹیم کیلئے مشکل ہوتا‘‘۔

یہ معلوم کرنے پر کہ آیا اُن کیلئے دورے کا یہ مناسب وقت تھا، انہوں نے کہا کہ ’’یہی مناسب وقت تھا‘‘، کیونکہ اُنہوں نے ایسے لوگوں سے ملاقات کی جو آنے والے وقت میں، پالیسیوں کی تشکیل میں خاصے با اثر ہونگے، اور ایسے افراد زیادہ تر تھنک ٹینکوں سے لئے جاتے ہیں۔

اسکے علاوہ ان کی ملاقات آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مکین اور سینٹ کی امورِ خارجہ سے متعلق کمیٹی کے سربراہ سینیٹر بوب کورکر سے ہوئی، جن کے سامنے انہوں نے کھل کر پاکستانی مؤقف کو پیش کیا اور بتایا کہ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کیلئے کس قدر جانی اور مالی نقصان برداشت کیا ہے۔

تاہم، اس سوال پر کہ امریکیوں سے ملاقات کے دوران انہیں کس قسم کا ردِ عمل ملا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی قبل از وقت ہوگا کہ آنے والی انتظامیہ، صدر اوباما کے دور میں متعارف کرائی گئی ایف پاک پالیسی میں کوئی تبدیلی لائے گی یا نہیں۔

طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ پاکستان ، افغانستان میں امن کے قیام کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے وہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو، کیونکہ پاکستان میں امن اسی وقت قائم ہوگا جب افغانستان میں امن ہوگا ۔ مستحکم اور پر امن أفغانستان، ہماری معاشی ترقی کیلئے بھی ناگزیر ہے، کیونکہ وسطی ایشیائی ریاستوں سے بجلی اور تیل کی درآمدات اسی وقت ممکن ہوں گی جب افغانستان میں امن قائم ہوگا اور مشرقی یورپ تک برآمدات اور درآمدات کا انحصار بھی افغانستان میں امن کے قیام سے ہے ۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے بہتر تعلقات ہوں۔ بقول ان کے، ’’لیکن بھارت ایسا نہیں چاہتا‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’’سارک کانفرنس کے انعقاد کو بھارت نے نقصان پہنچایا، اور ایسا اس نے صرف پاکستان کے ساتھ نہیں کیا بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی کیا ہے‘‘، کیونکہ، بقول طارق فاطمی کے، ’’بھارت علاقائی تعاون پر نہیں بلکہ علاقے میں بالادستی پر یقین رکھتا ہے‘‘۔

طارق فاطمی نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں ایسے مزید دورے کئے جائیں گے تاکہ پاکستانی مؤقف کو بااثر انداز میں پیش کیا جا سکے‘‘۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرکے امریکی حکام کے حوالے کرنے کا الزام ہے۔

XS
SM
MD
LG