رسائی کے لنکس

میں نے اپنے والد کی عدم موجودگی میں پرورش پائی: صدر اوباما

  • مدثرہ منظر

صدر براک اوباما کےبچپن کی ایک یادگارتصویر: اپنے والد کے ہمراہ

صدر براک اوباما کےبچپن کی ایک یادگارتصویر: اپنے والد کے ہمراہ

’غمِ روزگار انسان کو الجھا کر رکھ دیتا ہے۔ مگر اِس کا اثر ہمارے بچوں پر نہیں پڑنا چاہیئے۔ بچوں کو ہماری توجہ اور ہمارے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچوں کو ہماری غیر مشروط محبت کی ضرورت پڑتی ہے۔ خواہ وہ کامیاب ہوں یا غلطیاں کریں۔ زندگی خواہ آسان ہو یا مشکل‘

صدر براک اوباما نے امریکہ میں ’فادرز ڈے‘ ویک اینڈ پر اپنے ہفتہ وار خطاب کے ذریعے اُن لوگوں کو خاص طور پر مخاطب کیا جو اپنے بچوں کے والد ہیں۔اِس موقع پر صدر نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اپنے والد کی عدم موجودگی میں پرورش پائی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اُن کے والد اُن کے سرپر موجود رہتے تو شاید زندگی کچھ مختلف ہوتی۔صدر کے الفاظ میں: ’اگر وہ زیادہ عرصہ میرے ساتھ ہوتے تو نہ جانے میری زندگی کیسی ہوتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کے لیے بہتر والد ثابت ہو سکوں۔‘

صدر نے کہا کہ اپنے باپ کے بغیر پروان چڑھنے کے باعث اُن میں جذبہ پیدا ہوا کہ اپنی بیٹیوں کی پرورش کرنے کے لیے سخت محنت کریں اور اپنی بہترین کوشش سرانجام دیں۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ، ’غمِ روزگار انسان کو الجھا کر رکھ دیتا ہے۔ مگر اِس کا اثر ہمارے بچوں پر نہیں پڑنا چاہیئے۔ بچوں کو ہماری توجہ اور ہمارے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچوں کو ہماری غیر مشروط محبت کی ضرورت پڑتی ہے۔ خواہ وہ کامیاب ہوں یا غلطیاں کریں۔ زندگی خواہ آسان ہو یا مشکل۔‘

صدر نے کہا کہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان کروائیں۔ اُن کے الفاظ میں ’ہم سب اپنی مثال سے اپنے بچوں کو اچھے اور برے کی پہچان کرواسکتے ہیں، اور اُنھیں وہ قدریں اور ایک دوسرے سے وہ سلوک کرنا سکھا سکتے ہیں جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔‘

مسٹراوباما دو برس کے تھے جب اُن کے والدین میں علیحدگی ہوگئی تھی، اور جب وہ ابھی چھوٹے ہی تھے تو صرف ایک مرتبہ اُن کی اپنے والد سے ملاقات ہوئی۔ اُن کی پرورش ریاست ہوائی میں اُن کے نانا، نانی نے کی۔

صدر نے ’فادرز ڈے‘ کے موقعے پر ہر والد کی توجہ دلائی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور اُن کی مصروفیات میں خود بھی شریک ہوں۔اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی ساشا کے لیے ایسا ہی کر رہے ہیں۔

صدر نے کہا کہ: ’حال ہی میں، میں نے ایک اور ذمہ داری سنبھالی اور وہ ہے ساشا کی باسکٹ بال کے اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داری۔اتوار کے روز ہم ٹیموں کو پریکٹس کے لیے لے جاتے ہیں اور ایک دو مرتبہ میں نے اُن کی کوچنگ بھی کی ہے۔‘

مسٹر اوباما نے کہا کہ ہر والد اپنی ذمہ داری پوری کرکے بچوں میں ذمہ داری کا احساس اجاگر کر سکتا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG