رسائی کے لنکس

’’میں یہاں آرام سے ہوں‘‘


ایک ایسا مکان جس کے مکینوں کے درمیان انسانیت کے سوا کوئی رشتہ نہیں۔ چلئے، انجم صدیقی اور اخلاق صدیقی کے ادارے ’فاطمہ اسسٹڈ لیونگ سروسز‘۔

’’میں ابھی تک کسی ایسے انسان سے نہیں ملی جس سے میں شادی کرنا چاہوں۔ آپ کو اسی انسان سے شادی کرنی چاہئے جس سے آپ محبت کرتے ہوں ۔۔”

پچانوے سال کی عمر میں بھی سوزن کی یاد داشت کمال کی ہے۔ وہ اپنی ملازمت کے دنوں میں جاپان میں رہ چکی ہیں جہاں امریکی فوجیوں کے لئے تقریبات منعقد کرنے اور ٹورز ترتیب دینے کا کام ان کے سپرد تھا۔ جاپان کے ذکر پر ان کی یاد داشت کی سوئی گرامو فون کے پرانے ریکارڈ کی طرح کہیں اٹک جاتی ہے۔

“سوزن۔ کیا آپ کو یہاں رہنا پسند ہے؟‘‘

’’آپ کا مطلب، کیا میں یہاں رہنا پسند کروں گی؟ نہیں۔ مجھے جاپان پسند ہے۔ ‘‘

’’ کیا خاندان کا کوئی فرد آپ سے یہاں ملنے آتا ہے؟‘‘

’’آپ کا مطلب ہے، کیا میں کسی جاپانی سے شادی کروں گی؟‘‘

بات کرتے کرتے اچانک وہ جاپانی بولنے لگتی ہیں۔ اور یہ جان کر بچوں کی طرح خوش ہوتی ہیں کہ ان کے مخاطب کو جاپانی زبان کی ذرا سی بھی سمجھ بوجھ نہیں۔

وہ اپنے والدین کو یاد کرتی ہیں، جن کی بلیک اینڈ وائٹ تصویریں ان کے آرام دہ کمرے کی دیوار پر خوشگوار یادوں کی طرح بکھری ہوئی ہیں۔ کمرے کی ڈریسنگ ٹیبل پر ان کے دودھیا بالوں کے ہم رنگ سفید دندانوں والا ہئیر برش رکھا ہے۔ ایک ذہین آنکھوں والی خوبصورت لڑکی برش کے ساتھ رکھے فوٹو فریم سے مسکرا کر سوزن کو دیکھ رہی ہیں۔ وہ لڑکی روزانہ سوزن ڈین روتھر کو دیکھ کر یونہی مسکراتی رہتی ہے۔ وہ لڑکی سوزن خود ہیں۔ جب وہ 18 سال کی تھیں۔ تصویر کے پیچھے سفید کارڈ کے ایک کٹ آؤٹ پر نیلے مارکر سے لکھا ہے، ’’سوزن، آپ کو ایک بہت اچھی جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ جس کا نام ہے فاطمہ اسسٹڈ لیونگ سروسز۔ آپ وہاں آرام سے رہیں گی‘‘۔

یہ کارڈ سوزن ڈین روتھر کو کس نے لکھا؟ فاطمہ اسسٹڈ لیونگ سروسز کیا جگہ ہے؟ سوزن نے یہاں کیسی دنیا بسا رکھی ہے؟ جاننے کے لئے چلئے سوزن کی دنیا میں۔ تابندہ نعیم کی اس وڈیو رپورٹ کے ساتھ ۔۔۔

XS
SM
MD
LG