رسائی کے لنکس

موٹاپے کا نیا چیمپیئن متحدہ عرب امارات


موٹاپے کا نیا چیمپیئن متحدہ عرب امارات

موٹاپے کا نیا چیمپیئن متحدہ عرب امارات

اگر یہ پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ موٹے افرادکس ملک میں ہیں تو اکثر کا جواب ہوگا امریکہ میں۔

2000ء سے 2008ء کے عرصے اعدادوشمار پر اقوام متحدہ کی رپورٹ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ 66.7 فی صد کے ساتھ اس فہرست میں آگے ہے۔

اگر یہ پوچھا جائے کہ موٹاپے کا تعلق کس چیز سے ہے تو اکثر کا جواب ہوگا کہ دولت کی ریل پیل اور خوش خوراکی سے۔ عالمی معاشی اعدادوشمار کے مطابق امریکہ امارت میں سرفہرست ہے۔

زیادہ دور پرے کی بات نہیں ہے کہ موٹاپےکو صحت مندی کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا اور بے شو کے مقابلوں میں موٹے بچے کو پہلا انعام دیاجاتاتھا۔

مگر نئی سائنسی تحقیقات اور مطالعاتی جائزوں نے سارے پرانے تصورات اور نظریات باطل کردیے ہیں۔ اب موٹاپے کو بیماریوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے اور ڈاکٹر اتنا کسی موذی مرض سے نہیں جتنا کہ موٹاپے سے ڈراتے ہیں۔

نئی تحقیق کے مطابق موٹاپے کا تعلق امارت اور خوش خوراکی سے بھی نہیں رہا اور غریب ممالک کے باشندے بھی موٹاپے کی فہرست میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ موٹاپے کا تعلق اس سے نہیں کہ آپ زیادہ کھارہے ہیں بلکہ اس سے ہے کہ آپ کیا کھارہے ہیں۔

امریکہ جودوسال پہلےتک موٹاپے میں سر فہرست تھا ، اب وہ دسویں نمبر پر بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ امریکی خواتین میں اپنی صحت اور حسن کا بڑھتا ہوا احساس ہے ۔ جس کی بنا پر وہ اپنی خوراک پر ورزش پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں اور موٹاپے کے عالمی اسکیل پر امریکی خواتین اب 36 ویں درجے پر چلی گئی ہیں۔ جب کہ اس پیمانے میں مرد دنیا میں 10 ویں نمبر ہیں۔

لائیو سائنس پر ہاروڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مجموعی طورپر موٹاپے میں امریکہ کا عالمی مقام 20 درجے تک گر گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب موٹاپے کا عالمی کپ متحدہ ارب امارات کے پاس ہے۔جب کہ دوسرے نمبر پر آنے والا ملک بھی ایک اور خلیجی ریاست قطر ہے۔ وکٹری اسٹینڈ کی تیسری پوزیشن جیتنے والے ملک کا تعلق بھی کسی اور خطے سے نہیں بلکہ عرب سے ہے اور وہ ہے مصر۔

ماہرین موٹاپے کو صرف وزن کے پیمانے میں نہیں پرکھتے بلکہ موٹاپے کا تعین وزن، قد اور عمر کے درمیان تناسب سے کیا جاتا ہے جسے سائنسی اصطلاح میں بی ایم آئی کہاجاتا ہے۔ اگر بی ایم آئی کی سطح 20 اور 25 کے درمیان ہوتو ماہرین اسے صحت مندی قرار دیتے ہیں۔

بی ایم آئی کی سطح کا 25 سے زیادہ وزن کی زیادتی کہلاتا ہے ۔ جب کہ 30 سے زیادہ پوانٹس فربہی میں آتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا اوسط بی ایم آئی 28.9 ہے اور اس کے بعد قطر 28.5 کی سطح پر ہے۔ اس اسکیل پر امریکہ کے پوائنٹ 28.4 ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بحرالکاہل واقع سب سے چھوٹا ملک جمہوریہ نیرو ، دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کے ہر بالغ کا وزن نارمل سے زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی روایتی غذا مچھلی اور سبزیاں چھوڑ کر ڈبوں میں بند خوراک کاا ستعمال شروع کردیا ہے۔

براعظموں میں ایشیاء موٹاپے کے پیمانے پر سب سے نیچے ہے اور اس کی وجہ چین میں وزرش کارواج اور بھارت میں بڑے پیمانے پر سبزیوں کا خوراک میں شامل ہونا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی آبادی براعظم کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے۔

موٹاپے کی فہرست میں فوربز میگزین میں شائع ہونے ایک رپورٹ کے مطابق 2007ء میں پاکستان میں موٹے افراد کی تعداد 22 فی صد تھی اور 194 ملکوں کی فہرست میں اس کا نمبر 165 واں تھا۔ جب کہ 2010ء میں راولپنڈی کی زرعی یونیورسٹی کے ایک سروے میں یہ تعداد 27 فی صد سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

موٹاپے کے عالمی سکیل پر نیچے کے درجوں میں جاپان اور ایتھوپیا ہیں۔ جاپان کا شمار دنیا کے امیرترین اور ایتھوپیا کا غریب ترین ملکوں میں کیا جاتا ہے۔ ایتھوپیا میں موٹاپا اس لیے کم ہے کہ وہاں بھوک اور افلاس ہے اور لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اور جاپان میں موٹے افراد کی تعداد اس لیے کم ہے کہ وہ مچھلی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرآپ اپنا وزن معمول پر رکھنا چاہتے تو آپ کو اپنی خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھانا اور باقاعدگی سے وزرش کی عادت اپنانا ہوگی۔

ہاروڈ یونیورسٹی اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہناہے کہ موٹاپے میں امریکہ کا پہلے درجے سے گر کر 20 ویں درجے پر پہنچنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہاں لوگوں نے اپنے معمولات زندگی تبدیل اور صحت بخش خوراک کا استعمال شروع کردیا ہے ، جس سے موٹے افراد کی تعداد کم ہورہی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے لوگ امریکیوں کے مقابلے میں تیزی سے موٹے ہورہے ہیں۔

گویا امریکہ موٹاپے کی دوڑ ہار رہاہے۔

XS
SM
MD
LG