رسائی کے لنکس

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیر رہنما اور رکن قومی اسمبلی فوزیہ وہاب آج کراچی میں انتقال کرگئیں۔ انکی عمر چھپن سال تھی۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے فوزیہ وہاب ایک آپریشن کے بعد سے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں داخل تھیں، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا تھا۔

فوزیہ وہاب کی پیپلز پارٹی سے وابستگی طویل تھی، اور وہ اپنے پہلے شوہر، ممتاز صحافی وہاب صدیقی، کی 1993 میں وفات کے بعد سے سیاست میں بہت سرگرم عمل تھیں۔ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے فوزیہ وہاب کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف نے بھی فوزیہ وہاب کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر بابر غوری نے آبدیدہ آنکھوں سے ٹی وی کیمروں کے سامنے انہیں ایک عظیم خاتون قرار دیا اور کہا کہ پوری قوم انہیں نہیں بھولے گی۔ صدر آصف علی زرداری نے مرحومہ کے بیٹے کو فون کرکے تعزیت کا اظہار کیا۔

فوزیہ وہاب نے سوگواران میں تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ انکی طبیعت بگڑنے اور بالآخر موت کا سبب ڈاکٹروں کی غفلت کو بھی قرار دیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے بھی ایک بیان میں انکی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG