رسائی کے لنکس

یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہوگا کہ وہ طالبان کے کس گروپ سے مذاکرات میں دلچسپی رکھتی ہے۔

کراچی ۔۔۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو طالبان سے مذاکرات میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش انہوں نے جمعرات کے روز وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے خصوصی ملاقات کے دوران کی۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے لئے ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہیں۔ تاہم، یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہوگا کہ وہ طالبان کے کس گروپ سے مذاکرات میں دلچسپی رکھتی ہے۔

اس سے قبل، جمعیت علمائے اسلام (ایس) کے رہنما مولانا سمیع الحق بھی وزیر اعظم نواز شریف کو مئی میں طالبان سے مذاکرات کرانے میں مدد کی پیشکش کر چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے جمعرات کو میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ طالبان کے کس گروپ سے مذاکرات ہوں، اس بات کا فیصلہ کسی فورم میں ہونا چاہئے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کو پرامن رکھنے کے لئے باقاعدہ ایک فورم ہو اور اس فورم کی حکمت عملی بھی طالبان پر وضع ہونی چاہئے کیوں کہ طالبان، حکومت کے حوالے سے عدم اعتماد کا شکار ہیں، اعتماد کی فضا بنانے کے لئے فورم کی ضرورت اہم ہے۔

جے یو آئی ف کے سربراہ نے واضح کیا کہ مذاکرات پر دفاعی اور سیاسی حکومت کا موقف ایک ہونا چاہئے، تبھی طالبان مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہوسکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG