رسائی کے لنکس

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایک ماہ میں قریبی دوستوں کے 60 انفرادی تبصروں نے ایک شخص کی نفسیاتی بہتری پر اتنا بڑا اثر ڈالا جتنا کہ شادی یا بچے کی پیدائش جیسے اہم واقعات کرتے ہیں

فیس بک کے استعمال کےکئی مثبت پہلو ہیں، جنھیں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، جیسا کہ فیس بک نے فاصلوں کے احساس کو کم کردیا ہےاور ہزاروں میل کی دوری پر بسنے والوں کے ساتھ رابطے کو ممکن بنادیا ہے۔ اور، اب ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ فیس بک کمنٹس لوگوں کو اتنا زیادہ خوش کر سکتےہیں جتنا کہ وہ شادی یا بچے کی پیدائش پر ہوتے ہیں۔

'کارنیگی میلون یونیورسٹی' اور فیس بک کے محققین کا کہنا ہے کہ فیس بک کے انفرادی تبصروں کا ایک شخص کی ذہنی صحت اور اطمینان کےاحساسات پر گہرا اثر ہو سکتا ہے۔

تحقیق سے پتا چلا کہ ایک ماہ میں قریبی دوستوں کے 60 انفرادی تبصروں نے ایک شخص کی نفسیاتی بہبود پر اتنا بڑا اثرکیا تھا جتنا کہ شادی یا بچے کی پیدائش جیسے اہم واقعات کرتے ہیں۔

تحقیق 'کمیپوٹر میڈی ایٹڈ کیمیونیکشن' جریدے میں شائع ہوئی ہے،جو دنیا کے 91 ممالک سے تعلق رکھنے والے فیس بک کے 1,810 صارفین پر مبنی تھی جنھیں فیس بک کے اشتہارات کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔

شرکا نے ہر تین ماہ میں ایک ماہانہ سروے ارسال کیا تھا جبکہ محققین نےسروے سے ایک ماہ پہلے صارفین کے پوسٹ سے ان کے رویے کا تجزیہ کیا تھا۔

کارنیگی میلون یونیورسٹی میں انسان، کمپیوٹر میں بات چیت کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے والی تحقیق کی اہم مصنف ڈاکٹر مویرا برک نے کہا کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ ''ہر بات چیت کے مثبت اثرات نہیں تھےجیسا کہ پوسٹ کا خاموشی کے ساتھ پڑھا جانا یا آرا کے لیے لائک بٹن کی صورت میں پسندیدگی نے اطمینان کی بلند سطح کو نہیں چھوا تھا''۔

بقول اُن کے، ''لوگوں کو اچھا لگتا ہےجب ان کے جاننے والے اور جن لوگوں کی انھیں پرواہ ہوتی ہے وہ ان کے لیے انفرادی پوسٹ اور تبصرے لکھتے ہیں۔''

انھوں نے مزید کہا کہ ''ہم یہاں خاص قسم کی بات چیت کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ صرف ایک جملہ یا تبصرہ ہوسکتا ہے اس میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کسی نے یا ان کے قریبی دوست نے ان کے لیے وقت نکالا ہے۔ یہ مواد ہلکا پھلکا بھی ہوسکتا ہے اور ذاتی رابطے کا یہ انداز اصل میں وصول کنندگان کو ان کی زندگی میں بامعنی رشتوں کی یاد دلاتا ہے۔''

ڈاکٹر برک اور محقق رابرٹ کراوٹ کے نتائج فیس بک صارفین کےسروے کی بنیاد پر کئے جانے والے گذشتہ مطالعوں کےنتائج کے برعکس ہیں جن میں اکثر سوشل میڈیا پر وقت گزارنے کو تنہائی اور ڈپریشن کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

محقق کراوٹ نے کہا کہ''آپ کو یہ بات حیران کردے گی کہ کیا ناخوش لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا خوشیوں کو متاثر کر رہا ہے''۔

تاہم، نئی تحقیق نے اس پیچیدہ سوال کا جواب ڈھونڈ لیا ہے جس کے مطابق ''جب آپ فیس بک پر زیادہ بامعنی تبصرے لکھتے ہیں ان کے لیے جنھیں آپ پہلے سے پسند کرتے ہیں تو اس سے آپ اچھا محسوس کرتے ہیں''۔

اور اس نتیجے سے یہ پتا چلتا ہے کہ ''جو لوگ اداس محسوس کرتے ہیں وہ زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ لیکن، وہ اس کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ بہتر محسوس کرنا چاہتے ہیں''۔

صارفین کے مزاج اور رویے پر غور کرنے کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ دوستوں کے ساتھ بات چیت نے صارف کی ذہنی بہبود، زندگی کے ساتھ اطمینان، خوشی، تنہائی اور ڈپریشن میں بہتری کی نوید سنائی یے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG