رسائی کے لنکس

ملک کی چالیس ریاستوں میں ’شوٹنگ‘‘ کے واقعات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔

امریکہ کے تفتیشی ادارے ’ایف بی آئی‘ نے اپنی ایک نئی مطالعاتی رپورٹ میں تصدیق کی ہے گزشتہ ایک دہائی میں عام لوگوں پر فائرنگ کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

یہ رپورٹ بدھ کو شائع کی گئی جس میں 2000 سے 2013 کے درمیان فائرنگ کے 160 ’ایکٹو شوٹنگ‘ یا متحرک فائرنگ کے واقعات کا ذکر کیا گیا، یہ ایسے واقعات ہیں جن میں مسلح افراد نے لوگوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کی جس میں ایک سے زائد لوگوں کو ہلاک یا اُنھیں مارنے کی کوشش کی گئی۔

رپورٹ میں جو اعداد و شمار بتائے گئے وہ 2000 سے 2007 کے درمیان ہیں، جن کے مطابق ایک سال میں ’ایکٹو شوٹنگ‘ کے 6.4 واقعات (یعنی چھ سے زائد واقعات) ہوئے۔

لیکن 2007 سے 2013 کے درمیان ایسے واقعات کی شرح دو گنا ہو گئی اور فائرنگ کے واقعات کی سالانہ اوسط 16.4 بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں ان واقعات کے محرکات کو نہیں پرکھا گیا تاہم فائرنگ کے ایسے واقعات میں ملوث افراد کی بعض مشترکہ چیزوں کو ظاہر کیا گیا ہے۔

فائرنگ کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے اپنے اختلافات یا اس بنا پر گولیاں چلائیں کہ وہ خود کو الگ تصور کر رہے تھے۔

زیادہ تر واقعات میں ایک ہی فرد نے اسکول یا کاروباری علاقوں میں فائرنگ کی۔ رپورٹ کے مطابق اسکولوں میں ایسے واقعات میں زیادہ تر فائرنگ طالب علموں نے کی تاہم چھ واقعات میں حملہ آور خواتین تھیں۔

ملک کی چالیس ریاستوں میں ’شوٹنگ‘‘ کے واقعات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔

یہ رپورٹ ایسے واقعات سے نمٹنے میں متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو تیاری کے لیے مدد دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG