رسائی کے لنکس

پولیس میں ’نسلی امتیاز‘ کڑوی حقیقت ہے: جمیز کومی


جیمز بی کومی (فائل فوٹو)

جیمز بی کومی (فائل فوٹو)

جمیز کومی کہنا تھا کہ سفید فام پولیس افسران کے ہاتھوں سیاہ فام شہریوں کی ہلاکت اور پھر نیویارک پولیس کے دو افسروں کی موت نے بحث کرنے والے دونوں فریقوں کے لیے مشکل معاملات پیدا کر دی ہیں۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" کے ڈائریکٹر جیمز بی کومی نے اعتراف کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے افسران میں نسلی امتیاز پایا ہے۔

جمعرات کو جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مختلف رنگت والی برادریوں اور پولیس کی ایجنسیوں کے درمیان "ربط کو فقدان" افسوسناک ہے۔

"ہم دوراہے پر کھڑے ہیں۔ بحیثیت معاشرہ ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی گزاریں، اپنے خاندان کی پرورش کریں، کام پر جائیں اور یہ امید کریں کہ کوئی اور کہیں سے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کچھ کرے۔۔۔۔یا پھر ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہمارا آج کا تعلق کیا ہے اس پر کھلے ذہن کے ساتھ بحث کریں۔"

ان کا کہنا تھا کہ سفید فام پولیس افسران کے ہاتھوں سیاہ فام شہریوں کی ہلاکت اور پھر نیویارک پولیس کے دو افسروں کی موت نے بحث کرنے والے دونوں فریقوں کے لیے مشکل معاملات پیدا کر دی ہیں۔

کومی کا کہنا تھا کہ اس بارے میں معلومات اور اعداد وشمار جمع کیے جائیں کہ پولیس کتنے تواتر سے طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ ان کے بقول پالیسی سے متعلق فیصلوں میں اس طرح کی معلومات کی ضرورت ہے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں نسلی امتیاز خصوصاً پولیس کی طرف سے رواں رکھے جانے والے سلوک پر خاصی گرما گرم بحث چھڑ چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG