رسائی کے لنکس

ایف بی آئی اور محکمہ انصاف نے ایک بیان میں " اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان مقدمات میں متاثر ہونے والے کو ماضی کی غلطیوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

امریکہ کے ایک موقر اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' اور محکمہ انصاف نے"باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ "ایف بی آئی کی فرانزک یونٹ کے "تقریباً تمام جائزہ کاروں" نے 2000ء سے قبل دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران فوجداری مقدمات کا دفاع کرنے والے ملزمان کے خلاف ناقص گواہی دی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ رپورٹ میں فوجداری وکلاء کی قومی تنظیم (این اے سی ڈی ایل) اور بے قصور افراد سے متعلق ایک پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایف بی آئی کی بالوں کا خوردبینی تقابلی تجزیہ کرنے والے یونٹ کے 28 میں سے 26 جائزہ کاروں نے 268 میں سے 95 فیصد مقدمات میں استغاثہ کی حمایت کرنے کے لیے مبینہ طور پر "تجزیاتی رپورٹ میں مبالغہ آرائی" سے کام لیا۔

این اے سی ڈی ایل اور بے قصور افراد کے متعلق پراجیکٹ کے مطابق جن مقدمات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا ان میں سے ان 32 افراد کے مقدمات شامل ہیں جنہیں سزائے موت دی جا چکی ہے اور ان میں 14 افراد ایسے ہیں جن کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے یا وہ جیل میں ہی وفات پا گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق استغاثہ اور مقدمات کا سامنے کرنے والوں کو امریکہ بھر میں اس تحقیق کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ بتا سکیں کہ آیا ان کے پاس ایسی وجوہات موجود ہیں جس کی بنیاد پر وہ (اپنی سزا کے خلاف) اپیل کر سکتے ہیں۔

ایف بی آئی اور محکمہ انصاف نے ایک بیان میں "اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان مقدمات میں متاثر ہونے والے کو ماضی کی غلطیوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور ہر مرحلے پر انصاف کو یقینی بنایا جائے گا"۔

XS
SM
MD
LG