رسائی کے لنکس

اس دوا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ضمنی اثرات میں غنودگی اور قے آنا بھی شامل ہیں اور ضمنی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دوا حوصلہ افزا نہیں۔

امریکہ کے خوراک اور ادویات سے متعلق ادارے "ایف ڈی اے" نے خواتین میں جنسی رجحان بڑھانے کی دوا کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

اس دوا کو "فیمیل ویاگرا" کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔

ایف ڈی اے "فلیبنسیرن" نامی اس دوا کو دو بار مسترد کر چکا تھی لیکن اب یہ ایڈی کے نام سے دستیاب ہو گی۔

اس دوا کے ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) سے متعلق خاصی بحث اور تحفظات بھی دیکھنے میں آچکے ہیں۔

اس دوا کے ساتھ انتباہی پرچہ بھی موجود ہوگا جس کے مطابق دوا کے دوران الکوحل کے استعمال سے مریض کا بلڈ پریشر گر سکتا ہے یا وہ بیہوش بھی ہو سکتی ہیں لہذا ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ ہی اسے استعمال کیا جائے۔

اس دوا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ضمنی اثرات میں غنودگی اور قے آنا بھی شامل ہیں اور ضمنی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دوا حوصلہ افزا نہیں۔

یہ دوا بنیادی طور پر خواتین کے دماغ کے بعض خلیوں پر اثرانداز ہو کر ان میں شہوت ابھارنے کے لیے تیار کی گئی تھی اور اسے عموماً ان خواتین کے لیے تجویز کیا جانا ہے جو حیض بند ہونے (مینوپاز) سے قبل جنسی مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔

آدمیوں کے لیے پہلے ہی ویاگرا اور ایسی ادوایات موجود ہیں جن سے متعلقہ ہارمونز یا ایستادگی کے مسائل کا حل تلاش کیا گیا ہے۔

خواتین کے لیے منظور کی گئی دوا اکتوبر سے بازار میں دستیاب ہو گی۔

XS
SM
MD
LG