رسائی کے لنکس

فرگوسن پولیس کا نسلی امتیاز پر مبنی سلوک: رپورٹ


فائل

فائل

یہ رپورٹ چھ ماہ کی تفتیش کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے احکامات گذشتہ برس سڑک پر تصادم کے دوران شوٹنگ کے واقع میں ایک سفید فام پولیس اہل کار کے ہاتھوں غیرمسلح سیاہ فام نوجوان، مائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد دیے گئے تھے

امریکی محکمہٴانصاف بدھ کو اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مزوری کے شہر فرگوسن میں محکمہٴپولیس نے جائز وجوہ کے بغیر، لوگوں کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا اور اُنھیں گرفتار کیا؛ اور یوں، عام طور پر ساہ فام شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی سرزد ہوئی۔

یہ رپورٹ چھ ماہ کی تفتیش کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے احکامات گذشتہ برس سڑک پر تصادم کے دوران شوٹنگ کے واقع میں ایک سفید فام پولیس اہل کار کے ہاتھوں غیرمسلح سیاہ فام نوجوان، مائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد دیے گئے تھے۔

تاہم، فرگوسن پولیس کے بارے میں اپنی سفارشات میں وفاقی اہل کاروں نے اعلان کیا تھا کہ پولیس اہل کار، ڈیرن ولسن کے خلاف شہری حقوق کی پامالی کا معاملہ اٹھانا درست نہ ہوگا، جو شہر کے محکمہٴپولیس سے استعفیٰ دے چکے تھے۔

محکمہٴانصاف اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اُن کی اس دلیل کو غلط ثابت کرنے کی کوئی شہادت نہیں ملی کہ واقعے میں اُنھیں اپنی زندگی کو خطرہ لاحق نہیں تھا، نہی اس بات کا کوئی ثبوت سامنے آیا کہ جب ولسن نے اُن پر گولی چلائی، تو مائیکل براؤن نے ہاتھ کھڑے کر رکھے تھے۔

گذشتہ نومبر میں، ریاست کے ایک گرینڈ جیوری نے ولسن کی ہلاکت کے معاملے میں اُنھیں بے گناہ قرار دیا تھا، جس فیصلے کے نتیجے مین سینٹ لوئی کے قریب مقیم ایک قلیل تعداد پر مشتمل سیاہ فام برادری اور ملک بھر میں شدید احتجاج سامنے آیا تھا۔
سینکڑوں انٹرویوز، اور پولیس ریکارڈ کے35000 صفحات اور دیگر دستاویز کا جائزہ لینے کے بعد، محکمہٴانصاف اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ 67 فی صد سیاہ فام آبادی والے شہر فرگوسن میں ہونے والی گرفتاریوں میں 93 فی صد افراد کا تعلق افریقی نژاد امریکیوں سے تھا۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اہل کار سرکاری اِی میل اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے نسلی امتیاز پر منبی پیغامات کا تبادلہ کرتے پائے گئے ہیں۔ ایسی ہی ایک اِی میل میں، جو نومبر 2008ء کو امریکی صدر براک اوباما کے انتخاب کے بعد جاری ہوئی، شہر کے ایک اہل کار نے تحریر کیا کہ مسٹر اوباما زیادہ دیر خدمات انجام نہیں دے پائیں گے، ’کہ، کونسا سیاہ فام شخص چار برس تک کام کرتا ہے؟‘

شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں، جب کہ محکمہ انصاف کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اپنا انداز تبدیل کرنے کے لیے وہ شہر کے ساتھ ایک سمجھوتا طے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

تاہم، کوئی سمجھوتا طے نہ ہونے کی صورت میں، محکمہٴانصاف شہر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گا، جس میں ایک عدالتی فیصلے کے حصول کی کوشش کی جائے گی جس کی رو سے تبدیلی لانے کے لیے کہا جائے گا، جیسا کہ امریکی حکومت حالیہ برسوں کے دوران پہلے ہی قانون کا نفاذ کرنے والے دیگر اداروں کے خلاف قانونی اقدام کر چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG