رسائی کے لنکس

مظاہرین نے نیویارک سیٹی کے ٹائم اسکوائر اور ہارلم کے تاریخی سیاہ فام مضافات میں ریلیاں نکالیں اور پُلوں اور سرنگوں کو بلاک کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر پولیس نے کارروائی کی

مِزوری کے قصبے فرگوسن میں، شوٹنگ کے واقعے میں سفید فام پولیس اہل کار کے ہاتھوں غیر مسلح سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت کے معاملے پر گرینڈ جیوری کی طرف سے فیصلہ دیے جانے کے بعد، منگل کی رات شروع ہونے والا احتجاج اب دوسرے شہروں تک پھیل چکا ہے۔

اگست میں ہونے والے شوٹنگ کے اس واقعے میں 18 برس کے مائیکل برائون کی ہلاکت کے معاملے پر، اُس قصبے میں تنائو بڑھ چکا ہے، اور سینٹ لوئی کے مضافات میں، جہاں سیاہ فاموں کی اکثریت آباد ہے، پولیس کے تشدد اور نسلی امتیاز کے معاملے پر تشویش بڑھ چکی ہے۔

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، منگل کے روز ملک کے 170 شہروں میں فرگوسن سے متعلق احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

مظاہرین نے نیویارک سیٹی کے ٹائم اسکوائر اور ہارلم کے تاریخی سیاہ فام مضافات میں ریلیاں نکالیں اور پُلوں اور سرنگوں کو بلاک کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر پولیس نے کارروائی کی۔ پولیس نے اجتماع پر کنٹرول کے لیے، کالی مرچ ملا تیز دھار والا پانی پھینکا۔

اوکلینڈ، کیلی فورنیا میں، مظاہرین نے ایک اہم ہائی وے پر ٹریفک بند کردی؛ اور جورجیا کے شہر ایٹلانٹا میں پولیس نے 21 مظاہرین کو گرفتار کرلیا، جن پر ٹریفک کو بلاک کرنے کا الزام ہے۔ ڈینور، کولوراڈو، اور اوریگون کے شہر پورٹلینڈ میں تیز دھار کا پانی پھینکا گیا۔

منگل کی رات فرگوسن میں 2000سے زائد نیشنل گارڈ فوجیوں کو تعینات کیا گیا، تاکہ تشدد کی مزید کارروائیوں کو روکا جاسکے۔

فرگوسن سے وائس آف امریکہ کی خبر کے مطابق، پہلی رات کو احتجاج کے دوران لوٹ مار اور نذر آتش کے واقعات اب رک گئے ہیں۔

نامہ نگار، عائشہ تنظیم کے مطابق، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نیشنل گارڈ کئی مقامات پر تعینات ہیں۔

بقول اُن کے، ' وہ ہمیں محکمہ پولیس کے باہر دکھائی دیے۔ وہ پولیس لائنس کے عقب میں بھی تعینات تھے۔ وہ عمارت کے سامنے تو نہیں تھے۔ لیکن وہ بلوے سے نمٹنے کے لیے مسلح تھے، اور ہنگامہ آرائی کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے۔۔۔ وہ فرگوسن اور مضافاتی کائونٹیز کے اہم علاقوں کی چوکسی پر مامور تھےٗ۔

XS
SM
MD
LG