رسائی کے لنکس

فیفا نے صدر سیپ بلیٹر کو معطل کر دیا


سیپ بلیٹر

سیپ بلیٹر

دو ہفتے قبل ہی سوئیٹزلینڈ میں وکلائے استغاثہ نے بلیٹر کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا کہ انہوں نے 2011 میں پلاٹینی کو 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔

فٹبال کے عالمی مقابلے منعقد کرنے والی تنظیم فیفا کی ضابطہ اخلاق کمیٹی نے تنظیم کے صدر سیپ بلیٹر اور ان کے ممکنہ جانشین کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔

کمیٹی نے سیپ بلیٹر اور یورپی فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر مائیکل پلاٹینی کے خلاف جمعرات کو یہ اقدام اس وقت کیا جب دو ہفتے قبل ہی سوئیٹزلینڈ میں وکلائے استغاثہ نے بلیٹر کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا کہ انہوں نے 2011 میں پلاٹینی کو 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔

فیفا نے کہا کہ بلیٹر کو اس وقت کسی بھی حیثیت میں تنظیم کی نمائندگی کی اجازت نہیں۔

جواب میں بلیٹر کے وکلا نے کہا ہے کہ جس کمیٹی نے انہیں معطل کیا اس نے خود ہی اپنے ضوابط کی پاسداری نہیں کی اور انہیں ثبوت پیش نہیں کرنے دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معطلی سوئس اٹارنی جنرل کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات کے بارے میں ایک ’’غلط فہمی‘‘ کا نتیجہ تھی۔

بلیٹر کے وکلا کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’صدر بلیٹر کو اس بات پر مایوسی ہوئی ہے کہ فیفا کی اخلاقیات کی کمیٹی نے ضابطہ اخلاف اور تادیبی ضوابط پر عمل نہیں کیا جن دونوں میں ملزم کو شنوائی کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔‘‘

طویل عرصہ تک افریقی فٹبال کنفڈریشن کے صدر رہنے والے عیسیٰ حیاتو قائم مقام صدر کے اختیارات سنبھالیں گے۔ انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے ایک مرتبہ غلط روی پر حیاتو کی سرزنش کی تھی۔

پلاٹینی پر 90 روزہ پابندی سے آئندہ فروری میں فیفا کے صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو ریٹائرڈ فرانسیسی کھلاڑی پلاٹینی نے اپنی معطلی کی خبر سامنے آنے کے بعد کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

اخلاقیات کی کمیٹی نے فیفا کے سیکرٹری جنرل جیروم والک کو بھی 90 روز کے لیے معطل کر دیا ہے اور نائب صدر چنگ مونگ جون پر چھ سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور ایک لاکھ ڈالر جرمانہ کیا ہے۔ والک پہلے ہی 2014 کے ورلڈ کپ میں ٹکٹیں بیچنے کی سکیم سے متعلق ایک الزام کا سامنا کرنے کے دوران چھٹی پر تھے۔

مئی سے فیفا ایک بڑے سکینڈل کی زد میں ہے جب فیفا کے 14 عہدیداروں کو زیورخ میں گرفتار کیا گیا اور امریکہ میں ان پر بدعنوانی سے متعلق 50 کے قریب جرائم کی فرد جرم عائد کی گئی۔

سوئس حکام نے 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بالترتیب روس اور قطر کے انتخاب سے متعلق علیحدہ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG