رسائی کے لنکس

برازیل کی صدر نے کہا ہے کہ فٹبال عالمی کپ کے انعقاد سے منسلک کئی ایک مسائل کے باوجود، برازیل دنیا بھر سے آنے والے مہمان شرکا کو خوش آمدید کہنے کے لیے ’تیار و بے چین ہے‘

برازیل کی صدر، دِلما روسیف نے کہا ہے کہ ’فٹبال ورلڈ کپ‘ کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، اور اُنھوں نےاِس تاثر کو مسترد کیا کہ کھیلوں کی تقریبات پر ناقابل برداشت لاگت آئے گی۔

حالیہ مہینوں کے دوران برازیل میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں ملک کے 12 شہروں میں جہاں یہ کھیل منعقد ہوں گے، اسٹیڈئم اور نقل و حمل کے منصوبوں پر 11 ارب ڈالر خرچ کیے جانے پر احتجاج کیا گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اِن منصوبوں کے باعث، دیگر ضروری شعبوں، مثلاً صحت اور تعلیم کے لیے مختص رقوم کا رخ بدل دیا گیا ہے، اور الزام لگایا کہ سرکاری بدعنوانی کے باعث اٹھنے والی لاگت برداشت سے باہر ہوگئی ہے۔

منگل کو ٹیلی ویژن پر اپنی قومی نشریہ تقریر میں مز روسیف نے کہا کہ 2010ء سے برازیل میں صحت اور تعلیم پر 200فی صد سے زائد رقوم کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

صدر نے کہا کہ فٹبال عالمی کپ کے انعقاد سے منسلک درپیش کئی ایک مسائل کے باوجود، برازیل دنیا بھر سے آنے والے مہمان شرکا کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار و بے چین ہے۔

مز روسیف نے کہا کہ عالمی کپ کے انعقاد کے بعد تیار ہونے والے زیریں ڈھانچے کے یہ منصوبے ایک طویل عرصے تک ہمارے کام آئیں گے، جن سے مکمل استفادہ کیا جاتا رہے گا۔ اُنھوں نے اس بات کا بھی عہد کیا کہ اگر کوئی شخص بدعنوانی کا مرتکب پایا گیا تو اُسے ضرور سزا دی جائے گی۔

فٹبال ورلڈ کپ کا جمعرات سے آغاز ہورہا ہے، جب برازیل اور کروشیا مدِ مقابل ہوں گے۔

بتیس ممالک کی ٹیمیں ایک ماہ تک جاری رہنے والے اِس عالمی ایونٹ میں برازیل کے 12 شہروں میں 64 میچ کھیلیں گی۔
XS
SM
MD
LG