رسائی کے لنکس

یمن میں 72 گھنٹوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ہی سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں میں شدید لڑائی ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سعودی زیر قیادت اتحاد نے دارالحکومت صنعاء کے مشرقی علاقے میں حوثیوں کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

تمام فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی حمایت سے نافذ کی گئی جنگ بندی کی پاسداری کریں گے جس کا مقصد شہریوں تک انتہائی ضروری امداد پہنچانے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کا ہفتہ کو کہنا تھا کہ جنگ بندی کی کافی حد تک پاسداری کی جا رہی اور ان کی کوشش ہے کہ اس میں توسیع کی جائے، لیکن اس بارے میں معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں کہ آیا ان کی اس کوشش کو دیگر فریقین کی حمایت بھی حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔

سعودی عرب سے ملحق عرب دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک یمن میں تقریباً دو سالوں سے جاری لڑائی کے باعث اب تک سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

جمعہ کو دیر گئے اسماعیل شیخ نے سعودی دارالحکومت میں جلاوطن نائب یمنی صدر محسن الاحمر سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یمنی سرکاری فورسز جنگ بندی کا احترام کر رہی ہیں۔

گزشتہ سال کے اوائل میں سعودی عرب نے اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اس کے بعد سے اب تک جنگ بندی کے لیے ہونے والا یہ چھٹا معاہدہ تھا۔

حوثیوں قبائل نے حکومت پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 2014ء میں بغاوت کا آغاز کیا اور بعد ازاں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا جس کا کنٹرول اب بھی ان کے پاس ہے۔

XS
SM
MD
LG