رسائی کے لنکس

سنہ 1935میں نور جہاں نے کے۔ڈی ۔مہرہ کی فلم ’پنڈ دی کڑی‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ اُس کے بعد، فلم ’مصر کا ستارہ‘ میں اداکاری کے ساتھ ساتھ کئی گیتوں کو اپنی آواز بھی دی۔ سنہ 1937 میں بننے والی فلم ’ہیر سیال‘ میں ہیر کےبچپن کا کردار ادا کیا

ترنم کی ملکہ جِن کی خو شبو آج بھی ہر سو مہک رہی ہے،12 برس قبل 23دسمبر2000ء کو اِس جہان ِفانی سے رخصت ہوئی تھیں۔

شہرقصور کی اللہ وسائی نے پانچ یا چھ برس کی عمر ہی سے گلوکاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا،جسے دیکھتے ہوئے اُن کی والدہ اُنھیں استاد بڑے غلام علی کےپاس لے گئیں جہاں سے اُنھوں نے گلوکاری میں کلاسیکی رموز اور موسیقی کے سروں کا اتار چڑھا ؤ سیکھا۔

نو برس کی عمر میں نور جہاں کی آواز نے پنجابی موسیقار غلام احمد چشتی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اُنہوں نےجور جہاں کے لیےخصوصی طور پر نعتیں،غزلیں اور لوک گیت کمپوز کیے، پھر نور جہاں کا خاندان کلکتہ منتقل ہو گیا، جہاں معروف گلوکارہ مختار بیگم نے نور جہاں اور اُن کی دو بہنوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی ، بلکہ مختلف پروڈیوسرز کو اُن کے نام بھی تجویز کیے۔

سنہ 1935میں اُنھوں نے کے۔ڈی ۔مہرہ کی فلم ’ پنڈ دی کڑی‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔اُس کے بعد، فلم ’ مصر کا ستارہ‘ میں اداکاری کے ساتھ ساتھ کئی گیتوں کو اپنی آواز بھی دی۔سنہ 1937 میں بننے والی فلم ’ہیر سیال ‘ میں ہیر کےبچپن کا کردار ادا کیا۔

آڈیو رپورٹ کے لیے کلک کیجئیے:


پھر وہ لاھور چلی آئیں اور کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد واپس ممبئی چلی گئیں، جہاں اداکاری کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے گلوکاری کا سفر بھی جاری رکھا۔ وہ کچھ عرصے بعد واپس چلی آئیں اور اداکاری کو خیرباد کہہ کر ساری توجہ پلے بیک سنگنگ کو دی۔65 کی جنگ میں گائے گئے قومی نغموں نے اُنھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ اُنھیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا ،جن میں’ تمغہٴ امتیاز‘ بھی شامل ہے۔

سنہ 1986میں جب وہ شمالی امریکہ کے دورے پر تھیں تو اُنھیں سینے میں درد کی شکایت ہوئی۔ ڈاکٹرز نے انجائنا کی تکلیف بتائی جس کے بعد اُن کی سرجری کی گئی۔ سنہ 2000 میں کراچی میں اُنھیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ یو ٕں، یہ دلکش آواز 23 دسمبر2000ء کو اپنی مہک یہیں چھوڑ کر ہم سے ہمیشہ کے لیے دور ہو گئی۔
XS
SM
MD
LG