رسائی کے لنکس

’تو نے کہا نا تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں، آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتا بھی دیکھ‘

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
میری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنا تیز چلے سر پھری ہوا سے کہو
شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے

شکیب جلالی ، جدید غزل کا اہم نام،علی گڑھ کے ایک قریبی قصبے جلالی میں پیدا ہوئے ۔

ابھی دس برس ہی کے تھے کہ والدہ چل بسیں۔

گلے ملا نہ کبھی چاند، بخت ایسا تھا
ہرا بھرا بدن اپنا، درخت ایسا تھا

میٹرک کے بعد شکیب پاکستان چلے آئے۔

تعلیم حاصل کرنے کے بعد پہلے تو مختلف جرائد کے ساتھ منسلک رہے بعد میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں نوکری شروع کی۔ اِسی سلسلے میں سرگودھا میں تعیناتی کے دوران صرف 32برس کی عمر میں خودکشی کر لی۔

ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں
جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ
تو نے کہا نا تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتا بھی دیکھ

تفصیل کے لیے آڈیو پر کلک کیجئیے:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG