رسائی کے لنکس

ملالہ کا حصولِ علم سے جنون کی حد تک لگاؤ

  • شہناز نفیس

فلم میں اسکولوں کو بموں سے اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پولیس پر حملے دکھائے گئے ہیں۔ سوات کے منگورہ بازار میں اُس چوکی کو دکھایا گیا ہے جہاں طالبان سرعام اپنے مخالفین کے سر قلم کرکے اُن کی لاشوں کو لٹکایا کرتے تھے

اِس دستاویزی فلم میں ایک طرف 2009ء میں سوات میں طالبان کی بربریت اور وہاں کے اُن مظلوم لوگوں کی آواز میں سنائی دیتی ہیں جو کبھی طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی خودساختہ شریعت کے شکار رہ چکے تھے۔ ساتھ ساتھ ملالہ یوسف زئی کا حصولِ علم کے لیے جنون کی حد تک لگاؤ دکھایا گیا ہے۔

ملالہ اور اُن کے ترقی پسند والد، ضیا ٴالدین یوسف زئی کی جدوجہد اور اِس کے خلاف ملا فضل اللہ کی مسلح مداخلت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔

فلم میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ملا فضل اللہ، اُن کے حامی اور طالبان حامی میڈیا ایک خاموش اور بے نیاز ریاست کی موجودگی میں آہستہ آہستہ اپنے انتہا پسند پیغامات کو مسجدوں سے، سڑکوں، بازاروں، اسکولوں، پولیس اسٹیشنوں اور کالجوں تک پہنچاتے ہیں۔

فلم میں اسکولوں کو بموں سے اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پولیس پر حملے دکھائے گئے ہیں۔ سوات کے منگورہ بازار میں اُس چوکی کو دکھایا گیا ہے جہاں طالبان سرعام اپنے مخالفین کے سر قلم کرکے اُن کی لاشوں کو لٹکایا کرتے تھے۔

اِس کے علاوہ، لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے طالبان کی وہ وارننگز بھی سنائی دیتی ہیں جو وہ اپنے نظریاتی مخالفین کو دیتے تھے۔

طالبان کے جارحانہ اور ظالمانہ رویے کے خلاف آوازوں میں ملالہ اور اُن کے والد، ضیاٴالدین یوسف زئی سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں جو طالبان کی خودساختہ شریعت کو کھلم کھلا اسلام کے منافی قرار دیتے ہوئے اپنی تقریروں میں موجودہ حکومت سے امداد کی اپیل کرتے ہیں، جو اُس وقت تک اُن حالات سے روگردانی کر رہی تھی۔

فلم میں ایسے وقت میں جب خود کو بہادر کہلوانے والے لوگ طالبان کے خوف کی وجہ سے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں، ملالہ کے والد ضیاٴالدین یوسف زئی کو سڑکوں پر طالبان کے نظریے کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

فلم کا دوسرا اہم پہلو تعلیم، بالخصوص لڑکیوں میں تعلیم سے ملالہ یوسف زئی کا جنوں کی حد تک لگاؤ ہے۔ تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے والی ملالہ ایک طالب جنگجو کے ہاتھ سے گولی کھاتی ہے۔ اُس کی زندگی بچ جاتی ہے اور برطانیہ میں اُس کا علاج معالجہ ہوتا ہے۔

صحت یابی کے بعد، ملالہ یوسف زئی تعلیم کی عالمی چیمپئن بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی ضیاٴالدین یوسف زئی کی تعلیم کے لیے کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بہت کم وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، مقامی لوگوں کے لیے ایک اسکول تعمیر اور پھر اسی اسکول میں ایک رنگ ساز، خاک روب، چوکیدار اور استاد کے طور پر ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ملالہ یوسف زئی کا اپنے آبائی وطن کی تعلیم نسواں کے لیے آواز اور پھر اسی آواز کو دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج، اقوام متحدہ میں بلند کرتے ہوئے یہ فلم سامعین کو یہ بات یاد دلانا چاہتی ہے کہ تعلیم اور خاص طور پر خواتین کے لیے تعلیم کس قدر اہم ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ملالہ تعلیم کے پیغام کو صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اس کی روشنی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر پسماندہ علاقوں تک پہنچانے کے لیے عملی طور پر کوشاں اور سرگرم عمل ہے۔

تعلیم کی غیرموجودگی انسانی کو کتنا بے بس کر دیتی ہے، یہی حقیقت فلم میں ملالہ کی والدہ، تور پکئی کی شکل میں واضح ہے ۔ سوات سے باہر جاکر تورپکئی کے لیے انگلینڈ میں رہائش ایک چیلنج بن جاتی ہے۔

ایک جگہ ملالہ بھی کہتی ہے کہ چونکہ اس کی ماں تعلیم یافتہ نہیں ہے، اس لیے وہ دوسروں پر انحصار کرتی ہے۔ تورپکئی خود بھی فلم میں ایک جگہ پورے انگلینڈ میں صرف چاند ہی کو ایک ایسی چیز سمجھتی ہے جسے وہ زمانہٴ سوات سے جانتی ہے، کیونکہ باقی سب چیزیں اُن کے لیے یا تو اجنبی ہیں یا پھر وہ ان کو سمجھتی نہیں ہے۔

اِس دستاویزی فلم کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سامعین کو ملالہ یوسف زئی اور اُن کے گھر کے تمام افراد یعنی ضیاٴالدین ، والدہ تورپکئی اور ملالہ کے دو بھائی خوشحال اور انکل خان یوسف زئی سے ملاقات کا موقع ملے گا اور اُن کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت سی معلومات جاننے کا بھی۔

فلم میں ملالہ کے خاندان کو ایک عام مسلمان خاندان کے طور پر مسجد جاتے ہوئے، ساتھ کھانا کھاتے ہوئے اور بازار جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

فلم میں نظر آنے والی شوخ مگر سنجیدہ ملالہ یوسف زئی اپنے بھائیوں سے لڑتے ہوئے ایک بھائی کو سست اور دوسرے کو شرارتی کہتی ہیں، تو جواب میں بھائی بھی ملالہ پر طنز کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

ملالہ کی زندگی پر بنائی جانے والی یہ دستاویزی فلم محض معلومات فراہم نہیں کرتی، بلکہ اس کا اسکرپٹ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ناظرین کی دلچسپی ہر لحظہ برقرار رہتی ہے۔ فلم نہ صرف سماجی بلکہ اس عظیم مقصد کو بھی اجاگر کرتی ہے جو ملالہ پوری دنیا میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے کر رہی ہیں۔

تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG