رسائی کے لنکس

یہ مکمل طور پر پاکستانی فلم ہے۔ اس میں کہیں سے بھی اور کچھ بھی ’مانگے تانگے‘ کا نہیں۔ نئے لوگوں کو ہی نہیں پوری پاکستان فلم انڈسڑی کو فخر ہونا چاہئے کہ یہ نئے لوگوں کی بہترین کاوش ہے

’مبارک ہو شکیل بھائی۔۔۔کراچی کے حالات خراب ہوگئے۔۔‘ فرحان آگ میں لپٹی ہوئی گاڑیوں اور عمارتوں کو دیکھ کر اپنے اوپر کنٹرول نہ رکھ سکا۔ لوگ املاک پر تیل چھڑک رہے تھے، دنگا فساد۔۔اور جلاوٴ گھیراوٴ میں مصروف تھے اور فرحان تھا کہ حالات خراب ہونے کی ’خوشی‘ میں فرط جذبات سے زوردار نعرے لگارہا تھا۔ وہ اس قدر خوش تھا کہ ہوا میں جھوم جھوم گیا!

نعرہ سن کر اس کے دوست مون کی بھی بانچھیں کھل گئیں۔۔وہ بھی خوشی سے دیوانہ ہوگیا۔۔۔اس نے فتحیاب انداز میں اپنے دونوں ہاتھ فضاٴ میں بلند کردیئے۔۔۔ جیسے کوئی کھلاڑی میدان مار لیتا ہے۔

۔۔۔اور شکیل بھائی کی تو جیسے لاٹری نکل آئی ہو۔۔ اس ’خوش خبری‘ کو سننے کے انتظار میں جانے کب سے ان کے کان ترس رہے تھے۔۔نعرہ سن کر انہوں نے تھکن سے چور آنکھیں’پٹاک سے‘ ایسے کھولیں جیسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔۔۔

کراچی کے خراب حالات پر خوشی کے جذبات کا اظہار۔۔۔دراصل اس کہانی کے پلاٹ کا ایک حصہ ہے جس پر ایک پاکستانی پروڈیوسر فضاء علی مرزا نے ’نامعلوم افراد‘ کے نام سے فلم بنائی ہے۔

کہانی میں ایک ناکام انشورنس ایجنٹ فرحان ہے، دبئی جانے کے شوق میں فیصل آباد سے کراچی میں آکر پھنس جانے والا اس کا دوست اور روم میٹ مون ہے۔ دونوں ایک ادھیڑ عمر شخض شکیل بھائی کے پرانے سے مکان کی پہلی منزل پر واقع ایک بوسیدہ سے کمرے کے کرایہ دار ہیں۔ ساتھ میں کھلی چھت ہے ۔۔جس پر نینا اچار کے لئے کیریاں سکھانے آتی جاتی رہتی ہے۔

’نینا‘ اور ’مینا‘میں ذرا سا ہی فرق ہے۔ مینا کی طرح نینا بھی چہچہاتی ہے۔۔ تو فرحان اسے دل دے بیٹھتا ہے۔۔۔سب کے اپنے اپنے مسئلے ہیں۔ نینا کو فرحان کی اچھی نوکری لگنے اور پھر گھر بسانے کا انتظار ہے۔۔مون اچھی نوکری اور شکیل بھائی اچھے دنوں کے منتظر ہیں۔ انہیں حالات نے مارا ہوا ہے۔

تینوں کی سوچ میں کوئی فرق نہیں۔۔تینوں امیر بننے کے سپنے دیکھتے ہیں ۔۔۔مایوس نہیں اس لئے نت نئی حرکتوں سے فلم دیکھنے والوں کو ہنساتے رہتے ہیں ۔تینوں سپنوں کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے اپنے اپنے طریقوں سے نئے نئے پلان بناتے ہیں لیکن ہر بار یہ پلان ان کے اناڑی پن اور شرارتوں پر ختم ہوجاتا ہے۔۔پھر بھی وہ امیر بننے کے سپنے دیکھنا نہیں چھوڑتے۔

شہر میں ہونے والی معمولی کی ہڑتالیں اور نامعلوم افراد کے ہاتھوں املاک و گاڑیوں کا جلاوٴ گھیراوٴانہیں ایک آئیڈیا سجھاجاتا ہے۔ تینوں کو یہی لگتا ہے کہ اس بار تو وہ کامیاب ہوہی جائیں گے لیکن نہ انہیں دکانیں جلانے کا کوئی تجربہ ہے نہ ہی وہ بوتل بم بناسکتے ہیں۔۔ایسے میں کچرا کنڈی کی آڑ میں بیٹھا ہوا ایک شخص انہیں کچھ ٹرکس سکھاتا ہے۔ لیکن، نتیجہ وہی ڈھاک کی تین پات۔۔اس بار بھی قسمت ان سے یاوری نہیں کرتی۔۔

اب کی بار شکیل بھائی ایک فول پروف پلان بناتے ہیں۔۔۔اس پلان میں اچانک ایک لڑکی آجاتی ہے جو بینک میں ملازم ہے اور مون سے ہمدردی رکھتی ہے۔ تینوں جی جان لڑا کر پلان پر عمل کرتے ہیں لیکن اس بار کہانی وہ موڑ لیتی ہے کہ فلم دیکھنے والے پیٹ پکڑ کر ہنسنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

نامعلوم افراد۔۔تازہ ہوا کا معطر جھونکا
فلم ’نامعلوم افراد‘ بہت عرصے بعد پاکستان فلم انڈسٹری میں تازہ ہوا کا ایسا معطر جھونکا ہے جو یقیناً تبدیلی کا باعث بنے گا۔ پیر کو کراچی کے ایٹریم سنیما میں اس فلم کا پریس شو ہواجس میں فلم کی کاسٹ اور کریو بھی شریک تھا۔

پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار جاوید شیخ (شکیل بھائی)، فہد مصطفیٰ (فرحان) مون (محسن عباس) نینا (عروہ حسین) کیمرہ مین رانا، پروڈیوسر فضاء علی مرزا، ڈائریکٹر نیبل قریشی، ’ہم فلمز‘ کی جی ایم پبلک ریلیشنز شہناز رمزی، پی آر ایگزیکٹیو منہاس صغیر اور دیگر بہت سی شخصیات نے ملکر فلم کا پریمئر دیکھا۔

جاوید شیخ اور فہد مصطفیٰ تو خیر سینئر ہیں، لیکن فلم میں شامل جس فنکار نے سب سے زیادہ داد وصول کیا وہ محسن عباس تھے۔ محسن نووارد ہیں لیکن اس قدر جم کر اداکاری کی ہے کہ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ کے ’سرکٹ‘ کی یاد تازہ ہوگئی۔

جاوید شیخ نے فلم کے ابتدائی حصے میں حالات کے ہاتھوں مجبور ایک شخص کا کردار ادا کیا ہے جو اچانک ہی مزاح میں بدل جاتا ہے۔۔کردار میں بغیر کسی انٹرو کے تبدیلی کہانی کو جھٹکا دے گئی ہے تاہم جاوید شیخ نے اپنے کردار کے ساتھ جی کر اسے امر کردیا ہے۔

فہد ۔۔بلا شبہ ہیرو ہیں۔ وہ اپنا کمال فن دکھا نے میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں۔ ان کی جگہ شاید کوئی اور ہوتا تو یہ کردار اتنی خوبی سے نہ نبھا پاتا۔

عروہ حسین نے کہیں یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ فلم کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتیں۔ وہ فلم کی اصل خوب صورتی ہیں۔ ان کی کم عمری ان کے کردار کو انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ کر گئی۔

کہانی میں ایک اور اہم فی میل ایکٹر کا کردار ہے جو کہانی کو اصل ٹوئسٹ کرنے کا سبب بنا۔ کہانی کے درمیان ان کی ’اینٹری‘ خوب صورت انداز میں ہوتی ہے۔ لیکن، وہ کہانی سے آئیں۔۔اور اچانک کہاں چلی گئیں۔۔۔فلم کو اصل موڑ دینے کا سبب کیا تھا۔۔۔یہ وہ خامیاں ہیں جو فلم دیکھنے والوں کے دل میں خلش چھوڑ جاتی ہیں۔ اس کردار کا مناسب انداز میں ’اینڈ ‘ ہوتا تو زیادہ اچھا تھا۔

فلم کے ساوٴنڈ ٹریک میں ایک آئٹم سانگ سمیت 9 گانے ہیں۔ یہ وہی آئٹم سانگ ہے جو مہوش حیات پر پکچرائز کیا گیا ہے۔ اور جس نے فلم کو سب سے زیادہ چرچے میں رکھا۔ فلم میں ان کا کردار بہت چھوٹا ہے۔ لیکن، وہ اس میں خوب چچی ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ٹی وی کے سینئر اداکار سلمان شاہد انڈر ورلڈ ڈان بنے ہیں جس میں ان کی اداکاری جاندار ہے۔

بطور ڈائریکٹر نیبل کی یہ پہلی فلم ہے۔ اب تک وہ اشتہاری فلمیں بناتے رہے ہیں۔ ان کا کام دیکھ کر گماں ہوتا ہے وہ مستقبل میں پاکستان فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہوں گے۔ فضاء علی مرزا کی پروڈکشن لاجواب ہے، فلم کو جتنی بھی کامیابی ملے گی اس میں فضاء کا حصہ بڑا ہوگا۔

مجموعی طور پر ’نامعلوم افراد‘ ایک کامیاب کامیڈی تھرلر ثابت ہوگی۔ فلم کی ڈسٹری بیوشن ’ایورریڈی پکچرز‘ اور ’ہم فلمز‘ کر رہے ہیں۔ فلم کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک پاکستانی فلم ہے۔ اس میں کہیں سے بھی اور کچھ بھی ’مانگے تانگے‘ کا نہیں ہے۔ نئے لوگوں کو ہی نہیں پاکستان فلم انڈسڑی کو فخر ہونا چاہئے کہ یہ نئے لوگوں کی بہترین کاوش ہے جو آئندہ جمعے کو ریلیز ہونے جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG