رسائی کے لنکس

مالیاتی اصلاحات : اوباما صارفین کےتحفظ کےبِل کی کانگریس سےمنظوری کےخواہاں


امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اِس بات کے خواہاں ہیں کہ کانگریس، مالیاتی اصلاحات اورصارفین کے تحفظ کےاقدام کی مجوزہ قانون سازی کو منظور کرے، جواُن کےایجنڈے پرقانون سازی کا اگلا اہم بِل ہے۔

سنیچر کو اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں مسٹر اوباما نے کہا کہ پیکیج اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ پیچیدہ کاروباری سودے جِن کو‘ڈرائیویٹوز’ کہا جاتا ہے، کھلے مارکیٹ میں آسان لین دین کے قابل بن جائیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ استخراجی عمل کی بنا پرہی 2008ء کا معاشی بحران پیدا ہوا۔

مسٹر اوباما نے یہ بھی کہا کہ اِس پیکیج کی مدد سے ٹیکس دہندگان بڑے بینکوں اور مالی اداروں کی بحرانی کیفیت سے باہر نکل آئیں گے، اور اُن لوگوں کے لیے جو وال سٹریٹ پر درج کمپنیوں کے حصص کا کاروبار کرتے ہیں اُنھیں یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ منتظمیں کے لیے معاوضے اور بونس پر ووٹ کا حق حاصل کرسکیں۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان ، استخراجی عمل پر مشتمل ضوابط کے مالی اصلاحات کے بِل کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔

مسودے میں وہ اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے بڑے مالی ادارے ناکامی سے دوچار بینکوں کی ہنگامی امداد کے پابندہوجائیں گے۔

سینیٹ میں ری پبلیکن پارٹی کے قائد، مِچ میک کونیل نے جمعے کو کہا کہ پارٹی کے 40ارکانِ سینیٹ نے مجوزہ قانون سازی کی مخالفت کے حق میں دستخط کر دیے ہیں، اوراُنھوں نے مزید مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے ۔

ری پبلیکن ارکان کا کہنا ہے کہ قانون سازی بڑے مالی اداروں کی بحرانی کیفیت کو ختم کرنے کا متبادل پیش نہیں کر پائے گی جِس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اپنے ہفتہ وار خطاب میں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ری پبلیکن پارٹی کے دوسرے اہم رُکن، ایرک کینٹور نے اخراجات اور بڑھتے ہوئے خسارے کے حوالے سے حکومت پر نکتہ چینی کی۔

XS
SM
MD
LG